ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات، برطانیہ نے تین ملکوں کو مدعو کرنے سے کیا انکار
کیا بزرگ شاہ چارلس سوم نوجوان نسل کے دِلوں پر راج کر سکیں گے؟
لندن،14ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانوی میڈیا نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کہ پیر 19 ستمبر کو کو ملکہ الزبتھ دوئم کی تجہیز وتکفین کے موقع پر برطانوی حکومت کی دعوت پر دنیا بھر سے 500 سے زیادہ نمایاں شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔برطانیہ نے تین ملکوں کو ملکہ کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت نہیں دی۔ ان تین ملکوں میں روس، بیلاروس اور میانمار شامل ہیں۔ ایران کو لندن میں سفیر کی سطح تک نمائندگی کا کہا گیا ہے۔
جن عالمی رہنماؤں نے آخری رسومات کی تقریب میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے ان میں امریکی صدر جو بائیڈن، ان کی اہلیہ جل بائیڈن، اطالوی صدر سرجیو ماٹا ریلا، جرمن صدر فرینک والٹر سٹین میئر، برازیل کے صدر جیر بولسونارو، سپین کے بادشاہ فلپ ششم، ان کی بیوی لیٹیزیا اور دیگر بہت کی شخصیات شامل ہیں۔میڈیا میں ماسکو کو دعوت نہ دینے کی گردش کرتی خبروں پر لندن میں روسی سفارت خانہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔یاد رہے 9 ستمبر جمعہ کو روسی ایوان صدر کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا تھا کہ ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں پوتین کی ذاتی موجودگی کا سوال غیر متعلقہ ہے۔
ناٹ مائی کنگ‘ برطانوی پولیس کو بادشاہت مخالفین کے ساتھ برتاؤ پرتنقید کا سامنا
لندن،14ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانوی پولیس کو ایسے مظاہرین کے ساتھ اپنے سلوک پر شہری حقوق کے گروپوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے جو شاہ چارلس سوئم کے تخت نشین ہونے پر احتجاج کر رہے تھے۔سوشل میڈیا پر پیر کے روز وائرل ہونے والی ایک وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتجاج میں شامل ایک خاتون نے ایک بڑا بینر اٹھا رکھا ہے جس پر لکھا ہے: ’ ناٹ مائی کنگ‘ ، یعنی آپ میرے بادشاہ نہیں ہیں۔اس کے بعد لندن میں برطانوی پارلیمنٹ کے باہر تعینات چار پولیس افسروں سے ان کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔احتجاج کرنے والی اس خاتون کو پولیس آفیسر احتجاج کی جگہ سے دور لے جاتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق خاتون کو پارلیمنٹ کے دروازوں سے دور کسی جگہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
وکیل اور موسمیاتی تغیرکے سرگرم کارکن پال پالزلینڈ نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ انہیں بھی پولیس نے خبردار کیا کہ وہ پارلیمنٹ کے باہر ایک خالی کاغذ اٹھا کر اپنی گرفتاری کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ اس (پولیس آفیسر ) نے تصدیق کی کہ اگر میں نے اس کاغذ پر ’ ناٹ مائی کنگ‘ لکھا تو وہ مجھے ’ پبلک آرڈر‘ کے تحت گرفتار کر لے گا کیونکہ اس سے کسی کی دل آزاری ہو سکتی ہے۔پال نے یہ ٹویٹ ایک وڈیو کے ساتھ شیئر کی ہے جس میں وہ ایک آفیسر کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں۔
برطانیہ کے عوام ملکہ الزبتھ دؤم کے 96 سال کی عمر میں انتقال کا سوگ منا رہے ہیں اور شاہی خاندان کو عوام کی ہمدردی حاصل ہے۔لیکن اس موقع پر مخالف آوازوں کے لیے موجود گنجائش پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں اور شہری آزادیوں کے گروپ خبردار کر رہے ہیں کہ پولیس بادشاہت کی مخالف ایک چھوٹی سی اقلیت کے حقوق کا احترام کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔بگ برادر واچ نے ایک بیان میں کہا کہ اگر لوگوں کو محض اس لیے گرفتار کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ایک کتبہ اٹھا رکھا ہے اور وہ احتجاج کر رہے ہیں تو یہ جمہوریت کی توہین ہے اور غالب امکان ہے کہ یہ اقدام غیر قانونی بھی ہو۔ پولیس آفیسرز کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کے احتجاج کے حق کا بھی اسی طرح تحفظ کریں جیسے وہ لوگوں کے دُکھ کے اظہار اور خراج عقیدت پیش کرنے کے حق کا احترام کر رہے ہیں۔
کیا بزرگ شاہ چارلس سوم نوجوان نسل کے دِلوں پر راج کر سکیں گے؟
لندن ،14ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسے دور کا ستم کہا جائے یا کچھ اور کیونکہ 73 سال کی عمر میں بادشاہ بننے والے چارلس کو ایسے نوجوان برطانیوں کا سامنا ہے کہ جو ان کے بارے میں شکوک کا شکار ہیں اور بادشاہت کے مستقبل حوالے سے سوال بھی اٹھا رہے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں ضلع سوہو کے اس پب کی منظر کشی کی گئی ہے جو اسی طرح کھچا کھچ بھرا ہے جیسا ملکہ برطانیہ کی موت سے قبل ہوا کرتا تھا یعنی کہا جا سکتا ہے کہ ملکہ کا انتقال لندن کے نوجوانوں کو ویک اینڈ پر لطف اندوز ہونے سے نہیں روک سکا۔
28 سالہ جوزف کورن نے اے ایف پی کو بتایا کہ مجھے چارلس کے بادشاہ بننے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا اور نہ اُمیدیں وابستہ کی ہیں۔اسی طرح ایک میز کے کنارے بیٹی 29 سالہ لوسی نے اس خواہش کا اظہار کرنے میں کسی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا کہ ان کا قطعی خیال یہی ہے کہ وہ چارلس کو آخری بادشاہ کے طور پر دیکھنا چاہتی ہیں۔ میں نئے بادشاہ کے حوالے سے ایسی ہی امید رکھتی ہوں۔73 سال کی عمر میں بادشاہ بننے والے چارلس اب تک کی برطانیہ کی تاریخ کے معمر ترین بادشاہ ہیں جبکہ ان سے قبل سات دہائیوں تک ان کی والدہ ملکہ رہیں۔
مئی میں یوگو کی جانب سے شائع کیے جانے پول میں بتایا گیا تھا کہ 18 سے 24 سال کی عمر کے صرف 29 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں چارلس بادشاہ کے طور پر اچھا کام کریں گے۔شاہی خاندان کی ہزار سال کی مقبولیت کی درجہ بندی میں چارلس کو 12 نمبر ملا جو ملکہ الزبتھ سے کافی نیچے تھی جبکہ پرنس ولیم اور ہیری دوسرے اور تیسرے نمبر پر تھے۔ملکہ کے انتقال کے بعد ہونے والے تازہ پول میں اگرچہ شاہ چارلس سوئم کی ریٹنگ میں بہتری آئی ہے تاہم ہر کوئی ان کے ابتدائی ایام کی کارکردگی سے زیادہ متاثر دکھائی نہیں دیتا۔21 سالہ سیم کہتے ہیں کہ مجھے ان کے ابتدائی خطابات میں وہ توانائی نظر نہیں آئی جو ملکہ کی بات چیت سن کر محسوس کیا کرتا تھا۔
اسی طرح ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ چارلس کی مقبولیت کئی دہائیوں تک سامنے آنے والے سکینڈلز کی وجہ سے بھی متاثر ہوئی اور ڈیانا سے علیحدگی بھی وجہ بنی، جو 1997 میں کار کے ایک حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔اسی طرح حالیہ چند برسوں میں شاہی خاندان کو نسل پرستی کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے جو زیادہ اہم اس لیے ہیں کہ یہ چارلس کے بیٹے ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن کی جانب سے لگائے گئے ہیں۔جوڑا ملکہ الزبتھ سے تعلقات خراب ہونے کے بعد برطانیہ سے امریکہ شفٹ ہو گیا تھا اور وہیں سکونت پذیر ہے۔شاہی خاندان کے معاملات کے ماہر رچرڈ فٹزولیم سمجھتے ہیں کہ عہدوں میں عمر میں فرق پڑتا ہے۔یقیناجب آپ عمر کی ساتویں دہائی میں ہوں، آپ وہ کشش نہیں رکھتے جو تیسرے یا چوتھے عشرے میں رکھتے ہیں۔



