بین الاقوامی خبریں

مراکش سے 60 ہزار مہاجرین سیوٹا کے راستے اسپین میں داخل، 34 افراد ہلاک

مراکش سے مہاجرین کی یلغار،اسپین کی حفاظتی دیوار بے اثر، اسپین نے انسانی ایمرجنسی نافذ کر دی

سیوٹا، 31 جولائی (اردودنیانیوز/ایجنسیاں) مراکش سے اسپین کے خودمختار شہر سیوٹا کی جانب مہاجرین کی غیر معمولی آمد نے یورپ کو ایک نئے سرحدی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ چند ہی روز میں تقریباً 60 ہزار مہاجرین سیوٹا پہنچ گئے، جبکہ سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران 34 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بڑھتے ہوئے بحران کے بعد اسپین نے انسانی اور سماجی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے سرحدی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق مہاجرین کی بڑی تعداد نے سمندر کے راستے تیر کر سیوٹا پہنچنے کی کوشش کی، جبکہ متعدد افراد نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش بھی کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کئی افراد سمندر میں ڈوب گئے، جبکہ بعض افراد تاراجال ساحلی علاقے کے قریب بھگدڑ کے دوران ہلاک ہوئے۔

سیوٹا کے علاقائی سربراہ خوان خیسوس ویواس نے کہا کہ چند دنوں میں آنے والے مہاجرین کی تعداد شہر کی مجموعی آبادی کے تقریباً 70 فیصد کے برابر ہو چکی ہے، جس کے باعث رہائشی مراکز، طبی سہولتوں اور دیگر بنیادی خدمات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات معمول کے انتظامی وسائل سے سنبھالنا ممکن نہیں رہا۔

بحران کی شدت کو دیکھتے ہوئے خوان خیسوس ویواس نے میڈرڈ حکومت سے فوج تعینات کرنے اور سرحدی سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ ابتدائی مرحلے میں اسپین کی وزارت داخلہ نے قومی ایمرجنسی نافذ کرنے سے گریز کیا، تاہم بعد ازاں حکومت نے سرحدی علاقوں میں فوجی اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کر دیا تاکہ مقامی سیکیورٹی اداروں کی معاونت کی جا سکے۔

وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور سرحدی نظم و نسق برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کی فراہمی اور سرحدی سلامتی دونوں کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

سیوٹا شمالی افریقہ میں واقع اسپین کا خودمختار شہر ہے، جو جغرافیائی طور پر مراکش سے گھرا ہوا ہے، تاہم انتظامی طور پر اسپین اور یورپی یونین کا حصہ ہونے کے باعث یہ یورپ پہنچنے کے خواہش مند مہاجرین کے لیے ایک اہم داخلی راستہ سمجھا جاتا ہے۔

اسپین کی وزارت داخلہ کے مطابق جمعرات سے جمعہ تک تقریباً 60 ہزار مہاجرین سیوٹا میں داخل ہوئے، جن میں سے 25 ہزار سے زائد افراد بعد ازاں رضاکارانہ طور پر واپس مراکش لوٹ گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی انتظامیہ پر دباؤ میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، تاہم سرحدی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور اضافی حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔

دوسری جانب اٹلی سمیت یورپی ممالک نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیوٹا میں پیدا ہونے والا بحران ایک مرتبہ پھر غیر قانونی ہجرت، انسانی اسمگلنگ اور یورپی سرحدوں کی سلامتی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ یورپی حکومتیں آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

Back to top button