چین میں تدفین کا بحران، قبرستان مہنگے اور جگہ کم
چین میں مرنا بھی مہنگا، قبرستانوں کی قیمتیں آسمان پر
بیجنگ 06 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) چین میں ان دنوں ایک نیا سماجی و معاشی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں بڑے شہروں میں قبرستانوں کی شدید کمی اور تدفین کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے شہریوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ کئی خاندان اپنے پیاروں کی تدفین کے لیے مناسب جگہ نہ ملنے کے باعث متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، خاص طور پر شنگھائی میں صورتحال انتہائی سنگین ہے جہاں 2025 کے وسط تک صرف 54 تجارتی قبرستان دستیاب ہیں اور ان میں سے اکثر تقریباً بھر چکے ہیں۔ 2023 میں ایک قبر کی قیمت تقریباً 760,000 یوآن فی مربع میٹر تک پہنچ گئی جو شہر کی اوسط رہائشی جائیداد کی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث بعض خاندانوں نے منفرد طریقہ اختیار کیا اور رہائشی فلیٹس خرید کر ان میں اپنے عزیزوں کی راکھ محفوظ کرنا شروع کر دی۔ اس طریقے کو اس لیے بھی ترجیح دی گئی کیونکہ قبرستان کے پلاٹس عموماً صرف 20 سال کے لیے ہوتے ہیں جبکہ رہائشی جائیداد 70 سال تک برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
تاہم حکومت نے اس رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سخت قدم اٹھایا ہے۔ چینی حکام نے جنازے سے متعلق قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے 30 مارچ سے رہائشی املاک میں انسانی راکھ رکھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہری نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور عوامی خدشات کو دور کرنا ہے۔
دوسری جانب عوامی حلقوں میں اس فیصلے پر بحث جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اصل مسئلے یعنی تدفین کی بڑھتی ہوئی لاگت اور قبرستانوں کی کمی کو حل نہیں کرتی، بلکہ شہریوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چین میں تدفین کے طریقوں میں مزید بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں اور حکومت کو اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے جامع پالیسی بنانا ہوگی۔



