
بیجنگ ،17ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) چین نے ایک ارب سے زیادہ افراد کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگا دی ہے جو اس کی مجموعی آبادی کا 71 فیصد بنتا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے یف پی کے مطابق کورونا وائرس کا پہلا کیس چین میں رپورٹ ہوا تھا جس کے بعد چین نے بہت جلد اپنے ملک کے اندر وبا پر قابو پا لیا تھا۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
تاہم جنوب مشرقی حصے میں نئے کیسز سامنے آنے کے بعد چین اپنی پوری آبادی کو ویکسین لگانے کی کوشش میں ہے۔جمعرات کو نیشنل ہیلتھ کمیشن کے ترجمان می فینگ نے پریس بریفننگ کے دوران کہا کہ ’15 ستمبر تک دو ارب 16 کروڑ افراد کو ویکسین لگا دی گئی ہے۔ گذشتہ ماہ چینی حکام نے کہا تھا کہ چین میں 89 کروڑ افراد کو ویکسین کی دو ارب خوراکیں لگائی گئی تھیں۔
حکومت نے ویکسین لگانے کے ہدف کے بارے میں عوامی سطح پر کوئی بات نہیں کی، لیکن وبائی امراض کے ماہر ڑونگ نانشان نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ رواں برس کے آخر تک ملک کی 80 فیصد آبادی کو ویکسین لگا دی جائے گی۔ چین کے جنوب مشرقی صوبے فیوجیان کو اس وقت ڈیلٹا وائرس کا سامنا ہے جس کی وجہ سے دو سو افراد متاثر ہوئے ہیں اور ان میں درجنوں سکول جانے والے بچے ہیں۔
چین نے مقامی سطح پر 49 کیسز رپورٹ کیے جن میں سے زیادہ تر فیوجیان میں سامنے آئے۔حکام کا کہنا ہے کہ نئے کلسٹر کیسز کا سبب بننے کا شک سنگاپور سے پوتیان شہر میں آنے والے ایک شخص پر ہے جس پر 14 روز کے قرنطینہ کے بعد علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں، لیکن ابتدا میں اس کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا۔
اسکول کھلنے کے بعد اس شخص کا 12 سالہ بیٹا اور اس کا ایک کلاس فیلو سب سے پہلے وائرس کا شکار ہوئے۔یاد رہے کہ کورونا وائرس آغاز کے حوالے سے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔کرونا وائرس کے بارے میں گمان یہ کیا جاتا ہے کہ یہ 2019 میں چین کے شہر ووہان کی ایک ایسی مارکیٹ سے پھیلا جہاں زندہ جنگلی جانور فروخت کیے جاتے تھے، اس کے علاوہ چین پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ یہ وائرس ووہان کی ایک خفیہ لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔
اس حوالے سے جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی میں ہی اس وائرس کو تیار کیا گیا ہے پر ان کا کہنا تھا ‘جی ہاں۔اس کے بعد اقوام متحدہ نے جانچ کے لیے اپنی ٹیم چین بھیجی تھی جس نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا تھا کہ ووہان میں بھیجے گئے اپنے مشن سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا کووڈ 19 وبا کا آغاز چین سے ہی ہوا۔



