بین الاقوامی خبریں

روس کے ساتھ جنگ میں اب تک نو ہزار یوکرینی فوجی ہلاک

آج سے 31 برس قبل یوکرین نے اسی تاریخ کو سوویت حکمرانی سے آزادی حاصل کی تھی۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے یوم آزادی کے موقع پر یوکرین کے خلاف ممکنہ روسی اقدامات کے بارے میں خبردار کیا ہے

کیف؍لندن،23اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین کے فوجی سربراہ Valeriy Zaluzhniy  کا کہنا ہے کہ تقریباً چھ ماہ قبل روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک لگ بھگ نو ہزار فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔جنرل ویلیری زلوزنی Valeriy Zaluzhniy  نے یہ بات پیر کو سابق فوجیوں کی ایک تقریب کے دوران کہی۔ یہ اپریل کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ یوکرین کے فوجی نقصان سے متعلق سرکاری اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں۔ادھر اقوام متحدہ یوکرین پر 24 فروری سے شروع ہونے والے روسی حملوں کے دوران ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کر چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے امور سے متعلق ادارے یونیسیف نے پیر کے روز بتایا کہ وہ تشدد سے کم از کم 972 یوکرینی بچوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر عالمی ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو۔یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نیایک بیان میں کہا ہے کہ زیادہ تر بچوں کی ہلاکتیں دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے ہوئی ہیں۔خیال رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو بدھ 24اگست کو چھ ماہ مکمل ہو جائیں گے۔ اس دن یوکرین کا یومِ آزادی بھی ہے۔

آج سے 31 برس قبل یوکرین نے اسی تاریخ کو سوویت حکمرانی سے آزادی حاصل کی تھی۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے یوم آزادی کے موقع پر یوکرین کے خلاف ممکنہ روسی اقدامات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔یوکرین کے دارالحکومت کیف میں یوم آزادی کی عوامی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق ایک سرکاری دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیف میں حکام نے پیر سے جمعرات تک منعقد کی جانے والی یوم آزادی عوامی تقریبات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

جوہری پلانٹ کے آپریٹر کا کہنا ہے کہ پاور پلانٹ کے باہر واقع فائر ڈپارٹمنٹ پر فائرنگ کی گئی جب کہ ایک شیل پاور ٹرانسفارمر سے بھی ٹکرایا جس سے ملک کے پاور گرڈ کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔دوسری جانب یہ اطلاعات ہیں کہ روس نے یوکرین کے ایک بڑے ایٹمی بجلی گھر کے قریب فضائی حملے کیے ہیں۔ریجنل گورنر ویلنٹین ریزنی چینکو نے کہا ہے کہ روس نے راکٹوں کے ذریعے زیپوریڑیا کے جوہری بجلی گھر کے مغربی علاقوں میں گھروں، ایک اسکول اور دکانوں کو نشانہ بنایا۔روس اور یوکرین دونوں ہی ایک دوسری پر جوہری بجلی گھر کے قریبی علاقوں میں گولہ باری کا الزام لگا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button