
واشنگٹن،12ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اگلے ماہ سے چین پر مصنوعی ذہانت کے آلات اور کمپیوٹر چِپس کی برآمدات پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق محکمہ تجارت نے رواں برس کے آغاز میں تین امریکی کمپنیوں کو خطوط بھیجے تھے جن میں انہوں نے پابندیوں سے متعلق نئے ضوابط جاری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔اس معاملے سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں میں کے ایل اے کارپ، لام ریسرچ کارپ اور اپلائیڈ میٹیرلز کو خطوط بھیجے گئے۔اس سے قبل حکام کی جانب سے نئے قواعد و ضوابط سے متعلق نہیں بتایا گیا تھا۔
مذکورہ کمپنیوں نے خطوط کی موصولی سے متعلق عوامی سطح پر اعتراف کیا ہے۔ ان خطوط کے ذریعے امریکی کمپنیوں کو چین کو چِپ بنانے کا سامان دینے سے روکا گیا ہے۔رواں ماہ کے آغاز میں چِپ ڈیزائن کرنے والی کمپنی نویڈیا کارپ نے کہا تھا کہ امریکی حکام نے اس کو آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی چِپس چین کو برآمد کرنے سے روکا تھا۔کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان قواعد و ضوابط میں ممکنہ طور پر چین کے خلاف مزید اقدامات بھی شامل ہوں گے۔جمعے کو وزارت تجارت کے ایک ترجمان نے مخصوص قواعد و ضوابط پر تبصرے سے انکار کیا تھا تاہم ایک مرتبہ پھر یہ بات دہرائی کہ ان کی وزارت قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے تحفظ کے لیے اضافی اقدامات کے ساتھ ایک جامع طریقہ کار اختیار کر رہا ہے۔
یہ نئے قواعد و ضوابط ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ چین کو جدید ٹیکنالوجیز کے حصول سے روکنے کی کوشش میں ہے۔اس شعبے میں امریکہ کا تسلط اب بھی برقرار ہے۔سینٹر فار سٹرٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں ٹیکنالوجی کے ماہر جم لوئس کا کہنا ہے کہ حکمت عملی یہ ہے کہ چین کو اس ٹیکنالوجی کے حصول سے روکا جائے اور انہوں نے یہ بات جان لی کہ چِپس ہی وہ چیز ہے جو چین نہیں بنا سکتا۔
روس کو روپیہ ملنے کا راستہ بند کرنے کیلئے تیل کی برآمد میں کم کی جائے گی: امریکہ
واشنگٹن ،12ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روس کی یوکرین کے خلاف جاری جنگ کی مالی ناکہ بندی کرنے کے لیے امریکی زیر قیادت دنیا کے اہم ممالک جی سیون نے ابھی سے تیاری شروع کر دی ہے۔ تاکہ مغربی ممالک کے روس سے تیل خریدنے کو روک دیا جائے۔ اس امر کا اظہار امریکی وزیر خزانہ جنیٹ ییلن نے کیا ہے۔تاہم امریکی وزیر خزانہ نے نے اعتراف کیا ہے کہ اس حکمت عملی کی وجہ سے سردیوں میں گیس کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتیں بھی اوپر جا سکتی ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ کے مطابق اس سلسلے میں مغربی ممالک نے تیل کی قیمت کو ایک خاص سطح پر رکھنے کی کوشش کی جائے گی اور روسی تیل کی ایکسپورٹ کم ہونے سے قیمتوں پر بھی چیک رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
وزیر خزانہ ییلن نے کہا ” یہ ایک رسک ہے اور ایک رسک وہ ہے جس کو کم کرنے کے لیے ہم کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا امکانی طور پر تیل کی قیمت میں اضافے کی وجہ مغربی ملکوں کا روس سے تیل منگوانے پر پابندی کا لگنا ہو گا۔اس پابندی کے بعد مغربی ممالک کے لیے روسی تیل کی ٹینکروں کے ذریعے منتقلی روک دی جائے گی۔
امریکہ کی وزیر خزانہ نے کہا تیل کی قیمتوں کو روکنے کا منصوبہ بن چکا ہے اور اس پر جی سیون ممالک کا اتفاق ہو چکا ہے۔مالدار ملک شریک ممالک سے زیادہ قیمت دینے سے انکار کے لیے کہیں گے۔ وہ اس سلسلے میں انشورنس ، فنانس نیوگیشن سمیت دیگر سروسز سے انکار کریں گے جو تیل کی قیمت بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ان قیمتوں کو روکنے کا بنیادی مقصد روس کو یوکرین جنگ کے لیے پیسہ ملنے کے امکانات بند کرنا ہے۔



