دبئی،25مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)متحدہ عرب امارات کی وزارتِ صحت نے منگل کے روز ملک میں ’آبلہ بندر‘(منکی پاکس) کے پہلے کیس کی اطلاع دی ہے۔یواے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام نے بتایا ہے کہ انتیس سالہ مریضہ مغربی افریقا کے ایک ملک سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ سیاح ہیں۔یو اے ای میں ان کی مطلوبہ طبّی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔وزارتِ صحت نے اس بات پر زوردیا ہے کہ یواے ای میں صحت حکام تحقیقات،متاثرہ مریضوں سے رابطوں کی جانچ پڑتال اوران کی پیروی سمیت تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔وام کی رپورٹ کے مطابق وزارت نے تصدیق کی ہے کہ صحت حکام کے تعاون سے وہ پائیدار کارکردگی کو یقینی بنانے اور معاشرے کو آبلہ بندر سمیت تمام متعدی بیماریوں اور وائرسوں کے مقامی سطح پرپھیلاؤ کو محدود کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
اس مقصد کے لیے فوری طور پر کیس دریافت کرنے،ان کے علاج ومعالجے اور وبائی امراض کی نگرانی کے لیے اعلیٰ ترین بین الاقوامی طریقوں کے مطابق عمل پیراہے۔گذشتہ چند روزکے دوران میں امریکا،برطانیہ اور فرانس سمیت متعدد یورپی اوربراعظم شمالی امریکہ کے ممالک میں آبلہ بندر کے کیسوں کی کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ نایاب وائرس براعظم افریقہ کے متعدد علاقوں میں عام ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ آبلہ بندرعام طورپرایک خود محدود بیماری ہے جس کی علامات 2 سے 4 ہفتوں تک جاری رہیں گی۔
اس نے مزید کہا ہے کہ اس کے شدیدنوعیت کے کیس بھی سامنے آسکتے ہیں جن میں ہلاکتوں کا تناسب تقریباً 3 سے 6 فی صد ہوسکتاہے۔اس وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کی سب سے پہلے بندروں میں شناخت کی گئی تھی۔ یہ بیماری عام طور پر قریبی رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے اور ماضی قریب میں افریقہ سے باہرشاذ ونادرہی پھیلی ہے۔البتہ اب اس سے مغربی ممالک میں انفیکشن نے تشویش کوجنم دیا ہے۔
تاہم سائنسدانوں کو نہیں لگتا کہ اس وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کووڈ-19 کی طرح ایک وَبا کی شکل اختیار کر جائے گی کیونکہ یہ وائرس سارس-کوو-2 کی طرح آسانی سے نہیں پھیلتا ہے۔یہ وائرس کسی متاثرہ شخص کے جسمانی سیال،لعاب دہن یا قطرہ تنفس اورچھونے والی سطحوں کے ساتھ رابطے دونوں کے ذریعے انسان سے انسان میں پھیل سکتا ہے۔اس کے انکیوبیشن کی مدت دس سے چودہ دن کے درمیان ہے۔ اس کی علامات میں جسمانی دانے ابھرنے سے پہلے سوجن، پٹھوں میں درد، سر درد اور بخار شامل ہیں۔



