واشنگٹن، 23ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ نے رواں ہفتے تہران میں 22 سالہ دوشیزہ مہساامینی کے قتل اور اس کے ردعمل میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے بعد ایران کی اخلاقی پولیس اورسات اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف پابندیاں عاید کردی ہیں۔امریکی وزیرخزانہ جینیٹ ییلین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مہسا امینی ایک بہادر خاتون تھیں۔ان کی ایران کی اخلاقی پولیس کی حراست میں موت ایرانی حکومت کی سکیورٹی فورسز کی اپنے ہی لوگوں کے خلاف سفاکانہ کارروائی کی ایک اور مثال تھی۔انھوں نے اس ناقابلِ قبول عمل کی مذمت کی اور تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ خواتین پرتشدد اور مظاہرین کے خلاف جاری پرتشدد کریک ڈاؤن کو ختم کرے۔
ییلین نے کہا کہ آج ایران کی اخلاقی پولیس اوراس کے ظلم وستم کے ذمے دارسینئرایرانی سکیورٹی حکام پر پابندیاں عاید کرنے کا اقدام بائیڈن-ہیرس انتظامیہ کے ایران اور عالمی سطح پر انسانی حقوق اور بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کے واضح عزم کا مظہر ہے۔کرد نڑاد ایرانی خاتون مہسا امینی کو گذشتہ ہفتے ایران کی اخلاقی کی پولیس نے ’نامناسب حجاب‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس کے زیرحراست کچھ ہی دیر بعد کوما میں چلی گئی تھیں اور گذشتہ جمعہ کو ان کی موت ہو گئی تھی۔
ان کے اس پْراسرارقتل کے بعد سوشل میڈیا اور سڑکوں پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) تنظیم کے مطابق حالیہ مظاہروں کے دوران میں ایرانی سکیورٹی فورسز نے 31 شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے پابندیوں کے اعلان کے بعد کہا کہ ایرانی حکومت کوخواتین پر ظلم و ستم کا سلسلہ بند کرنے اور پر امن احتجاج کی اجازت دینے کی ضرورت ہے۔
امریکہ ایران میں انسانی حقوق کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا اور ان کی خلاف ورزی کے مرتکبین کو جواب دہ بنائے گا۔محکمہ خزانہ نے ایران کی سکیورٹی تنظیموں کے سات سینئرعہدے داروں کو بھی نامزد کیا ہے،ان میں اخلاقیات پولیس ، وزارت برائے سراغرسانی اورسلامتی(ایم او آئی ایس) ،برّی افواج ، بسیج مزاحمتی فورسزاور قانون نافذ کرنے والی فورسزکے حکام شامل ہیں۔محکمہ خزانہ نے کہا کہ یہ حکام ان تنظیموں کی نگرانی کرتے ہیں جو ایران میں پرامن مظاہرین اور سول سوسائٹی کے ارکان، سیاسی مخالفین، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور ملک کی بہائی برادری کے ارکان کودبانے کے لیے باقاعدگی سے تشدد کا استعمال کرتی ہیں۔
بہادر ایرانی خواتین کے ساتھ ہم شانہ بشانہ کھڑے ہیں: بائیڈن
واشنگٹن، 23ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکی عوام ایرانی دلیر خواتین کے ساتھ کھڑی ہے۔ مہسا امینی کی ایرانی پولیس کی حراست میں موت اور اس کے بعد آٹھ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات کے بعد ایران میں احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔مختلف مقامات پر مظاہرے کئے گئے۔ احتجاج کے شرکا نے حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ مشتعل افراد نے ایرانی پرچم اور خامنہ ای کی سب سے بڑی تصویر کو بھی نذر آتش کردیا۔ 8 احتجاجی مظاہرین کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آگئی ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے خطاب کے فوراً بعد اپنے تقریر میں بائیڈن نے مظاہرین کو سلام پیش کیا اور تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے اپنی حمایت پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا ہم ایران کے بہادر عوام اور دلیر ایرانی خواتین کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ خواتین آج اپنے بنیادی حقوق کے دفاع میں مظاہرہ کر رہی ہیں۔ایران حکام نے 16 ستمبر کو ایران کے شمال مغربی علاقے کردستان سے تہران آنے والی 22 سالہ خاتون مہسا امینی کو مناسب حجاب نہ کرنے پر گرفتار کیا اور مہسا کی دوران حراست موت ہوگئی تھی جس کے بعد ایران بھر میں لوگوں میں غم غصہ پھیل گیا اور لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج شروع کردیا۔مظاہرین نے کہا کہ مہسا کو سر میں چوٹ لگی تھی جس کے باعث اس کی ہلاکت ہوئی تاہم ایرانی حکام نے کسی بھی تشدد کی تردید کردی۔ احتجاج کرنے والوں نے معاملہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر احتجاجی مظاہرین کی وائرل ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ مظاہرین میں موجود بہت سی خواتین نے اپنے سر سے اسکارف اتار کر آگ میں پھینک دیا۔بعض خواتین نے رد عمل میں اپنے بال کاٹ کر چھوٹے کرلئے۔ تہران میں مظاہرین نے ’پردہ نہیں، پگڑی نہیں بلکہ آزادی اور مساوات کے نعرے لگائے۔
کئی شہروں میں مسلسل پانچویں رات مظاہرے جاری رہے۔ ارومیا اور سردشت کے علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہاں مظاہرین نے علی خامنہ ای کی سب سے بڑی تصویر اور ایرانی پرچم کو آگ لگا دی تھی۔جنوبی ایران میں بھی بدھ کے روز مظاہرے کئے گئے۔



