برسلز ، 5اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یورپی یونین کے رکن ستائیس ممالک نے مجموعی طور پر اپنے ہاں سے پناہ کے متلاشی تارکین وطن کی ملک بدریوں میں پھر اضافہ کر دیا ہے۔ اس سال اپریل سے جون تک ایسے قریب ایک لاکھ غیر ملکی شہریوں کی ملک بدری کے آرڈر جاری کیے گئے۔یورپی یونین کے شماریاتی ادارے یوروسٹَیٹ کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال رواں کی دوسری سہ ماہی میں اس بلاک کے رکن ممالک نے مجموعی طور پر اپنے ہاں مقیم اور پناہ کے درخواست دہندہ تقریباًایک لاکھ غیر ملکیوں کو ان کی درخواستیں مسترد ہو جانے کے بعد ملک بدر کر دینے کا حکم جاری کر دیا۔
یوروسٹَیٹ کے مطابق یورپی یونین میں تارکین وطن کی ملک بدریوں کے احکامات کا اجرا ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے۔ اس سال یکم اپریل سے 30 جون تک کے عرصے میں یونین کی رکن ریاستوں سے مجموعی طور پر 23 ہزار 110 تارکین وطن کو ملک بدر کیا گیا۔ان میں سے کئی تارکین وطن ایسے بھی تھے، جنہیں یونین کے کسی ایک رکن ملک نے کسی ایسے دوسرے رکن ملک بھیج دیا، جہاں سے وہ اس ملک میں داخل ہوئے تھے، جہاں ان کی درخواستیں مسترد ہو گئی تھیں۔ اس کے علاوہ رواں برس کی دوسری سہ ماہی میں مجموعی طور پر 96 ہزار 550 ایسے تارکین وطن کو بھی ملک بدر کر کے ان کے آبائی ممالک بھیجے جانے کے احکامات جاری کر دیے گئے، جن کا تعلق یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تھا۔
ان میں بڑی تعداد ایشیائی اور افریقی ممالک کے شہریوں کی بھی تھی۔یوروسٹَیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق یورپی یونین کی رکن ریاستوں نے اس سال کی دوسری سہ ماہی میں جن تارکین وطن کی ملک بدری کے احکامات جاری کیے، ان کی تعداد گزشتہ برس کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ بنتی ہے۔اس کے علاوہ اس سال یکم اپریل سے لے کر 30 جون تک جن تارکین وطن کو عملی طور پر ملک بدر کیا گیا، ان کی تعداد بھی 2021 کی دوسری سہ ماہی کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ رہی۔رواں برس کی دوسری سہ ماہی میں یورپی یونین کے رکن جس ملک نے اپنے ہاں سے تارکین وطن کی ملک بدری کے سب سے زیادہ احکامات جاری کیے، وہ فرانس تھا۔
وہاں ایسے 33 ہزار 450 سرکاری آرڈرز جاری کیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر یونان رہا، جہاں حکام نے 8,750 تارکین وطن کو ملک بدر کر دینے کے احکامات جاری کیے۔دیگر ممالک میں سے اسی عرصے میں سویڈن نے پناہ کے متلاشی 2,380 غیر ملکیوں اور یونان نے 1,770 تارکین وطن کو ملک بدر کر کے واپس ان کے ممالک میں بھیج دیا۔یورپی یونین سے ملک بدر کیے گئے ایسے غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ تعداد البانیہ، جارجیا، روس اور ترکی کے شہریوں کی تھی۔



