الریاض ، 29مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور روس کی قیادت میں غیراوپیک ممالک پر مشتمل گروپ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یوکرین بحران کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے اور صارفین کی جانب سے مزید سپلائی کے مطالبے کے باوجود مئی میں تیل کی پیداوارمیں معمولی اضافہ کیا جائے گا اور اوپیک پلس اس منصوبے پر کاربند رہے گا۔
اوپیک پلس نے اگست 2021 سے ہر ماہ 4لاکھ بیرل یومیہ پیداوار بڑھانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔اس نے گذشتہ سال سعودی عرب، روس، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت کے لیے ان کی بنیاد پرتیل کی پیداوار میں مئی سے 432,000 بیرل یومیہ کے اضافے پراتفاق کیا تھا۔
امریکہ سمیت تیل کی زیادہ کھپت کرنے والے متعدد ممالک نے پیداکنندگان پرزوردیا ہے کہ وہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اپنی پیداوار میں بھی مزید اضافہ کریں۔ تیل کی عالمی مارکیٹ میں قیمت رواں ماہ 2008 کے بعد سب سے زیادہ 139 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔لیکن اوپیک کے بڑے رکن ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے اہداف کے مطابق پیداوار بڑھانے کو تیارنہیں جبکہ اوپیک پلس نے یوکرین جنگ کے موضوع سے بھی دوری اختیارکرلی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب تیل کی زیادہ پیداوار کو سودے بازی کے حربے کے طور پراستعمال کرنا چاہتا ہے اور وہ مغرب سے یمن میں اپنی جنگ کی مزید حمایت اور ایران سے مجوزہ جوہری معاہدے پر سلامتی کی ضمانت چاہتا ہے۔اوپیک پلس کے چھے ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ گروپ مئی کے لیے پیداواری منصوبے پر قائم رہے گا۔
ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پیداوار میں بڑے اضافے پراتفاق کرنے میں ہچکچاہٹ بھی ماسکو کے لیے اس کی خاموش حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سعودی محتاط ہیں۔وہ تیل کی پیداوار کو منصوبے سے زیادہ نہیں بڑھانا چاہتے تاکہ یہ ظاہر نہ ہو کہ وہ روس کے خلاف ہیں۔
روسی تیل کے ایک ذریعے نے بتایا کہ روس کو یہ توقع نہیں تھی کہ اوپیک پلس مئی کے لیے اپنے منصوبہ کے مطابق پیداوارمیں اضافہ کرے گا اور اسے امید ہے کہ گروپ میں دوسرے شراکت داراس کی حمایت کریں گے۔



