واشنگٹن، 25جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایسے میں جب یورپ ، امریکہ اور دنیا بھر کی حکومتوں عالمی وبا کووڈ نائنٹین اور اس کی تازہ ترین قسم اومیکرون پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں، یورپ کے اہم شہر برسلز اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ویکسی نیشن کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔برسلز میں میں پولیس نے کووڈ 19 ویکسی نیشن اور پابندیوں کے خلاف اتوار کو مظاہرہ کرنے والے لگ بھگ پچاس ہزار مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے واٹر گن کا استعمال کیا ہے یعنی تیز دھار پانی پھینکا ہے ا ور آنسو گیس استعمال کی ہے۔
مظاہرین میں سے کچھ فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک سے آئے تھیاور وہ یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر کی حیثیت رکھنے والے شہر میں مارچ کرتے ہوئے آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔ویڈیوز میں کچھ سیاہ پوش مظاہرین کو یورپی یونین کی سفارتی سروسز انجام دینے والوں کے زیر استعمال عمارت پر حملہ کرتے ہوئے اور اس کے داخلی دروازے پر آتش گیر گولے پھینکتے اور کھڑکیوں کو توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
بارسلونا میں پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپ کا استعمال کر رہی ہے۔ حکومتوں نے یہ پابندیاں اومیکرون کیسز میں ہر روز ہونے والوں اضافوں اور اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں عائد کی ہیں۔
بارسلونا کے اس بڑے مظاہرے سے قبل ہفتے کے روز یورپی یونین میں شامل اکثر ممالک کے دارالحکومتوں میں بھی کووڈ۔19 کے سلسلے میں عائد پابندیوں کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔مظاہروں کے دوران احتجاج کے منتظمین لاؤڈ سپیکروں پر لوگوں کو آگے بڑھنے پر زور دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اپنے حقوق کے حصول سے پیچھے مت ہٹو۔
بارسلونا کے مرکزی حصے میں مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ عالمی وبا کے نام پر ڈکٹیٹرشپ مسلط کر دی گئی ہے ۔برسلز میں ہنگاموں پر کنٹرول کرنے والے پولیس یونٹ نے بتایا ہے کہ انہوں نے 70 مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے، جب کہ مظاہرے کے دوران زخمی ہونے والے 12 مظاہرین اور تین پولیس اہل کاروں کو علاج معالجے کے اسپتال بھیجا گیا۔
بلجیم کی 77 فی صد کے قریب آبادی کو ویکسین کے کورس کی تمام خوراکیں دی جا چکی ہیں جب کہ 53 فی صد شہری بوسٹر خوراک بھی لگوا چکے ہیں۔ بلجیم میں عالمی وبا کے باعث 28 ہزار سات سو اموات ہو چکی ہیں۔نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے ملک میں کروناوائرس کے سلسلے میں عائد کی جانے والی پابندیوں کی وجہ سے اپنی شادی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔



