بین الاقوامی خبریں

طالبان پر بھروسہ نہ کریں، رہائی پانے والے افغان امریکی پر کیا بیتی؟

واشنگٹن، 12 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صافی رؤف افغان امریکی ہیں، وہ نوعمری میں ہی افغان پناہ گرین کی حیثیت سے امریکہ آگئے تھے۔ گذشتہ سال کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد وں پر دی جانے والی امداد پہنچانے اور انخلا میں مدد دینے کے لئے افغانستان گئے تھے۔جہاں انہیں طالبان نے قید کر لیا۔کابل پر طالبان کے کنٹرول کی خبر کے وقت میں واشنگٹن ڈی سی میں تھا، مجھے ہر شخص کی طرف سے اس بارے میں فون کالز آرہی تھیں۔ ایسے لوگوں کی طرف سے بھی جو کبھی افغانستان گئے ہی نہیں تھے، ہم نے ایک گروپ بنایا اور اس بارے میں بات کی کہ افغانستان کے لوگوں کے لئے کیا کیا جائے، وہاں سے لوگوں کو کیسے نکالا جائے، کابل ہوائی اڈے کو کیسے آپریشنل کیا جائے ۔جس کے لئے صافی رؤوف اور ان کے گروپ نے وائٹ ہاؤس سے باہر ایک آپریشن سینٹر جیسا ہیڈ کوارٹر قائم کیا۔

صافی رؤف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سمندروں کے اس پار سات ہزار میل دور بیٹھ کر میں وہ کام نہیں کر سکتا تھا جومیں چاہتا تھا، اس لیے امدادی کاموں میں مدد دینے کے لئے افغانستان چلا گیا، پہلی بار جب میں وہاں گیا تو سب ٹھیک تھا، دوسری بار جب میں افغانستان گیا تو دورے کے آخری دن افغانستان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس والے مجھے بغیر کسی وجہ کے پکڑ کر لے گئے، آخری دن تک انہوں نے نہیں بتایا کہ مجھے قید کیوں کیا ۔

صافی نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی وضاحت یہ تھی کہ یہ ایک غلط فہمی ہے، 18 دسمبر سے یکم اپریل تک طالبان نے مجھے یرغمال بنائے رکھا، میری رہائی کے لئے یہاں امریکی انتظامیہ کام کرنے لگی۔ بائیڈن خود اس میں شریک تھے اور امریکی حکومت، محکمہ خارجہ، وائٹ ہاؤس اور نیشنل سکیورٹی کونسل ان سب کی مشترکہ کوششوں سے مجھے رہائی ملی۔صافی کہتے ہیں کہ طالبان کے ایک سال کے اقتدار کی وضاحت کرنا بہت پیچیدہ ہے کیونکہ طالبان یہ غلط بیانیہ پیش کر رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہے اور حالات اتنے برے نہیں جتنے لوگ بیان کر رہے ہیں، لیکن یہ بیانیہ قطعاً درست نہیں ہے۔

طالبان منظم طریقے سے ان تمام لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو امریکہ کے اتحادی ہیں، جنہوں نے امریکہ کی اور امریکیوں کی مدد کی ہے۔وہ کہتے ہیں ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو سابق سرکاری ملازمین ہیں، سابق فوجی اہلکار ہیں اور جو ترجمان رہے ہیں۔گزشتہ سال اگست میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے وہاں حالات اور واقعات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو پوری دنیا کے لئے باعث تشویش ہے۔

اس صورتحال کے نتیجے میں، افغانستان سے شہریوں کے انخلا اور امریکہ میں افغان پناہ گزینوں کی آباد کاری میں مدد فراہم کرنے والے کئی افغان امریکیوں اور دیگر ماہرین نے افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کا ایک سال مکمل ہونے پر امریکی ذرائع ابلاغ سے اپنے تجربات شیئر کئے ہیں۔ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی افغان امریکی فاطمہ جاغوری 1999 میں اپنے خاندان کے ساتھ امریکہ منتقل ہوئی تھیں۔ امریکی فوج کا حصہ بننے کے بعد انہوں نے عراق میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔

ان کے شوہر افغانستان میں امریکی فوجی کی حیثیت سے ایک کارروائی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ فاطمہ گذشتہ سال ستمبر سے افغان خواتین کے لئے کام کر رہی ہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ1990 میں طالبان نے گھات لگا کر میرے والد کو مار ڈالا، اب بھی یہی ہو رہا ہے، وہ نہیں بدلے۔ خواتین کو اب بھی دبایا جارہا ہے، آپ کسی فن، موسیقی (غیر اسلامی اُمور )سے لگاؤ کا اظہار نہیں کر سکتے، آرٹ اور میوزک کے بغیر خوشی حاصل نہیں ہو سکتی، اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر وہ پابندی لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، جب آپ ان دو چیزوں پر پابندی لگاتے ہیں تو اپنی ثقافت سے محروم ہو جاتے ہیں، آپ اپنی شناخت کھو دیتے ہیں، اور وہ اسی کی کوشش کر رہے ہیں۔

جولائی میںافغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) نے افغانستان میں انسانی حقوق کے عنوان سے ایک رپورٹ جاری کی۔ جس میں گذشتہ اگست کے بعد سے ملک میں جاری انسانی حقوق خاص طور پر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیاتھا،تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے گزشتہ ماہ ایک ٹویٹ میں کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کے بارے میں ادارے کی رپورٹ درست نہیں،بلکہ سرے سے جھوٹ پروپیگنڈہ کا طومار ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button