دمشق،29 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شام کے شمالی شہرمنبج میں ایک اجتماعی قبر سے تقریباً 30 لاشوں کی باقیات ملی ہیں۔انھیں ممکنہ طور پرانتہا پسندوں نے ہلاک کیا تھا۔منبج میں کرد سویلین کونسل کے ایک عہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پربتایا ہے شہرمیں واقع ایک ہوٹل کے قریب ایک اجتماعی قبرسے 29 لاشیں ملی ہیں۔ان میں ایک خاتون اوردوبچوں کی بھی لاشیں شامل ہیں۔سخت گیرجنگجو گروپ داعش نے 2014ء سے 2016 تک اس شمالی شہر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کی تھی اور اس نے اس ہوٹل کو جیل میں تبدیل کردیا تھا۔منبج فوجی کونسل کے مطابق بدھ کے روز اس اجتماعی قبر کا سراغ میونسپل کارکنوں نے لگایا تھا۔
وہ سیوریج کا نظام ٹھیک کرنے کاکام کر رہے تھے اور اس دوران میں انھیں لاشیں ملی تھیں۔کچھ بوسیدہ باقیات کوہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں اوربعض کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ملی ہیں۔فوجی کونسل نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ انھیں کب قتل کیا گیا تھا لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ یہ داعش کے منبج پرکنٹرول کے دور کا واقعہ ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ یہ باقیات داعش کے جنگجوؤں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے افراد کی ہیں۔
امریکہ کی حمایت یافتہ کرد ملیشیا کے زیرقیادت شامی جمہوری فورسز نے 2016 میں انتہا پسندوں کو بے دخل کرنے کے بعد منبج پر قبضہ کرلیا تھا۔واضح رہے کہ عراق اور شام میں اب تک درجنوں اجتماعی قبریں ملی ہیں لیکن ان کی شناخت کا عمل سست، مہنگا اور پیچیدہ ہے۔داعش نے 2014 میں عراق اور شامی علاقے کے بڑے حصے پرقبضہ کرلیا تھا اور ہزاروں افراد کوحراست میں لے لیا تھا،پھران میں سے سیکڑوں افراد کو ہلاک کردیا تھا۔
داعش کے زیرقبضہ رہنے والے میں سب سے بڑی مبیّنہ اجتماعی قبروں میں سے ایک سے 200 لاشیں برآمد ہوئی تھیں اوراسے 2019 میں شام میں اس جنگجو گروپ کے سابق ظاہری دارالحکومت الرقہ کے قریب واقع علاقے میں دریافت کیا گیا تھا۔انسانی حقوق کے گروپوں نے باربارکرد حکام اور شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ داعش کے قبضے کے وقت لاپتا ہونے والے ہزاروں افراد کے انجام کی تحقیقات کریں۔
ان لاپتا افراد میں برطانوی نامہ نگار جان کینٹلی اور اطالوی جیسوئٹ پادری پاولو ڈل اوگلیو بھی شامل ہیں۔سنہ 2011ء کے اوائل میں شروع ہونے والی شام کی جنگ میں قریباً پانچ لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اورجنگ سے پہلے ملک کی کل آبادی میں سے نصف کودربدر ہونا پڑا ہے۔اس وقت لاکھوں شامی اندرون ملک میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں اورلاکھوں ہی ہمسایہ ممالک میں پناہ گزین کے طور پرمقیم ہیں۔
بائیڈن، شی جن پنگ گفتگو، چینی صدر کا امریکہ کو تائیوان کے معاملے پر انتباہ
بیجنگ ؍ واشنگٹن ،29 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان جمعرات کو فون پر گفتگو ایک ایسے موقع پر ہوئی جب دونوں ممالک کے درمیان امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کے تائیوان کے مجوزہ دورے کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجان نے نینسی پلوسی کے دورے کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ اس دورے کے ردِعمل میں سخت اقدامات اٹھائے گا۔وائٹ ہاوس کے مطابق یہ گفتگو، واشنگٹن کے وقت کے مطابق صبح 8 بجکر 33 منٹ پر شروع ہوئی۔
خیال رہے کہ صدر بائیڈن دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت چین کے ساتھ کام کرنے کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ ایسی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں جس سے چین کے دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو محدود کیا جا سکے۔واشنگٹن کو چین کی عالمی صحت، معیشت اور انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں پر اختلاف رہا ہے اور چین کی جانب سے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت سے انکار نے دنوں بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے۔دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی تازہ ترین وجہ نینسی پلوسی کا تائیوان کا ممکنہ دورہ ہے۔
تائیوان وہ جزیرہ ہے جو خود مختار ہے اور جمہوری طرزِ حکومت رکھتا ہے اور امریکہ سے غیر رسمی طور پر دفاعی مدد بھی حاصل کرتا ہے۔لیکن چین تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ سمجھتا ہے۔بیجنگ کہہ چکا ہے کہ امریکی ہاؤس اسپیکر کا تائیوان کا دورہ اشتعال انگیزی تصور ہو گا اور امریکی عہدیدار بھی اس انتباہ کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔علاوہ ازیں دونوں ممالک کے درمیان یوکرین پر روس کے حملے کے پسِ منظر میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔
امریکہ کی قومی سلامتی سے متعلق ترجمان جان کربی نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ صدر بائیڈن اور صدر شی جن پنگ کے لیے ضروری تھا کہ وہ باقاعدگی سے رابطے میں رہیں۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر بائیڈن چاہتے ہیں کہ صدر شی کے ساتھ گفتگو کے دروازے کھلے رہیں۔ ان کی ضرورت ہے۔ کچھ ایسے مسائل ہیں جہاں ہم چین کے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں اور یقیناً کچھ ایسے مسائل بھی ہیں جہاں اختلافات اور کشیدگی ہے۔صدر بائیڈن نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ اس سے قبل روس کے یوکرین پر حملے کے فوراً بعد گفتگو کی تھی۔
بائیڈن کے 2021 میں صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ پانچویں مرتبہ ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کے مابین فون پر گفتگو ہوئی ہے۔جان کربی نے بتایا تھا کہ ساوتھ چائنا سی میں چین کا ان کے بقول جارحانہ رویہ بھی صدور کے درمیان گفتگو کا موضوع ہو سکتا ہے۔امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے بالمشافہ ملاقات کی اہمیت کے بارے میں بھی گفتگو کی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ ان کے مشیران معاملات کو طے کریں اور بالمشافہ ملاقات کے بہترین وقت کا بھی تعین کریں۔دو گھنٹے پر مشتمل کال کے بارے میں جاری کیے گئے مختصر بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ آبنائے تائیوان میں طاقت کے توازن کو یکطرفہ بدلنے یا خطے کے امن اور سلامتی کو ضرر پہنچانے کی کوششوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
کیا افریقہ روس اور مغر ب کے درمیان نئی سرد جنگ کا اکھاڑہ بن رہا ہے؟
نیویارک ،29 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روسی، فرانسیسی اور امریکی رہنما یوکرین میں جنگ کے بارے میں اپنے موقف کی حمایت میں سبقت حاصل کرنے کے لیے افریقہ کا رخ کر رہے ہیں، اور کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے بعد سے اس براعظم پر اثر و رسوخ بڑھانیکی سب ایک بڑی دوڑ میں شامل ہیں۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لافروف اورفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اس ہفتے کئی افریقی ممالک کا دورہ کر رہے ہیں۔ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی یعنی یو ایس ایڈ کی سربراہ سمانتھا پاور گزشتہ ہفتے کینیا اور صومالیہ کے دورے پر تھیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ اگلے ہفتے گھانا اور یوگنڈا جائیں گی۔
گڈ گورننس کو فروغ دینے والی فاؤنڈیشن ڈیموکریسی ورکس کے ڈائریکٹر ولیم گومیڈ نے کہاکہ ایسا لگتا ہے جیسے افریقہ میں ایک نئی سرد جنگ شروع ہو رہی ہے، جہاں متحارب فریق اپنا اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لاوروف نے پورے براعظم افریقہ کے اپنے سفر میں جہاں بہت سے ممالک خشک سالی اور بھوک کا شکار ہیں، مغرب کوولن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اسے خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جب کہ مغربی رہنماؤں نے کریملن پر الزام لگایا ہے کہ وہ خوراک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اورفتح حاصل کرنے کے سامراجی جنگ لڑ رہا ہے۔
صدر ولادیمیر پوٹن کے زیر قیادت، روس کئی سالوں سے افریقہ میں حمایت حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہیاور نصف صدی پرانی دوستی کو از سر نو تقویت بخش رہا ہے، جب سوویت یونین نے نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے کے لیے لڑنے والی بہت سی افریقی تحریکوں کی حمایت کی۔افریقہ میں ماسکو کا اثرمارچ میں یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کے لیے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کے دوران ظاہر ہوا تھا۔ اس وقت 28 افریقی ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ براعظم کے پچیس ملکوں نے اس قرار داد پر چپ سادھ لی۔
روس کے اعلیٰ سفارت کار نے اس ہفتے مصر، کانگو، یوگنڈا اور ایتھوپیا کا بھی دورہ کیا، دوستی اور امداد کے وعدوں کے ساتھ انہوں نے امریکہ اور یورپی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ خوراک کی قیمتیں بڑھانے ذمّہ دار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کووڈ نائنٹین کی عالمی وبا کے زمانے میں انہوں نے خوراک کا ذخیرہ کر لیا۔لاوروف نے ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں کہا کہ یوکرین کی صورتحال نے خوراک کی منڈیوں پر بھی منفی اثر ڈالا، مگر اس کی وجہ روسی خصوصی آپریشن نہیں ہے بلکہ مغرب کی جانب سے پابندیاں لگا کر انتہائی نامناسب ردعمل تھا۔لاوروف کا یوگنڈا میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔صدر یووری میوزیوینی برسوں سے امریکی اتحادی رہے ہیں لیکن انہوں نییوکرین پر روس کے حملے پر تنقید کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
میوزیوینی نے جنگ شروع ہونے پر یہاں تک کہا کہ پوٹن کے اقدامات قابل فہم ہوسکتے ہیں کیونکہ یوکرین روس کے اثر و رسوخ کے دائرے میں ہے۔روس اپنے سرکاری ٹیلی ویڑن نیٹ ورک، آر ٹی (RT) کے ذریعے،جسے رشیا ٹوڈے بھی کہا جاتا ہے، افریقی عوام کی رائے بھی پیش کر رہا ہے، چینل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جوہانسبرگ میں ایک نیا بیورو کھولے گا۔یورپی یونین اور مغرب کی جانب سے روس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے بعد مارچ میں جوہانسبرگ میں قائم ملٹی چوائس افریقہ میں افریقہ کے سب سے بڑے پے-ٹی وی پلیٹ فارم سے RT کو اچانک ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا نئے بیورو کا قیام RT کو ملٹی چوائس کے ذریعے افریقہ میں نشریات دوبارہ شروع کرنے کے قابل بنائے گا یا نہیں۔



