بنکاک، 23ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کئی برسوں سے جاری ناروا سلوک نے بالآخر درجنوں چینی مسیحیوں کو ملک چھوڑ کر دیار غیر میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ تاہم ان میں سے بعض کا کہنا ہے کہ چین چھوڑ دینے کے باوجود بھی انہیں بیجنگ کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔چین میں کئی برسوں سے تکلیف دہ حالات میں رہنے اور جنوبی کوریا میں سیاسی پناہ نہ ملنے کے سبب 57 چینی مسیحی افراد کا ایک گروپ گزشتہ ماہ تھائی لینڈ پہنچا۔ ان کا مقصد اقوام متحدہ کی مہاجرین کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کے ذریعے تھائی لینڈ میں سیاسی پناہ حاصل کرنا تھا۔2019میں چین چھوڑ دینے کے باوجود چرچ کے ان ارکان کی طرف سے اپنی زندگی کو مشکلات میں گھری ہوئی اور مسلسل خطرات کا شکار قرار دیا گیا۔؎
یہ چرچ چینی شہر شینزن میں قائم کیا گیا تھا اور قیام کے بعد سے اسے مقامی حکام کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے کے تجربات سے گزرنا پڑا، کیونکہ ابیجنگ نے مذہبی برادریوں پر کنٹرول مزید بڑھا دیا ہے۔اس چرچ کے ایک پاسٹر پان یونگوانگ کے مطابق سال 2014 کے بعد سے پولیس ہماری عبادت کی جگہ پر چھاپے مار چکی ہے، مجھے سوالات کے لیے بلا چکی ہے اور ہمارے کمپیوٹرز اور بائبل قبضے میں لے چکی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ چرچ مجبور ہوا کہ وہ اپنے مذہبی اجتماعات کے لیے جگہیں مسلسل تبدیل کرتا رہے۔
جب میں نے 2019میں ایک تربیت میں شرکت کے لیے تھائی لینڈ جانے کی کوشش کی تو مقامی پولیس نے میرے گھر سے نکلنے پر پابندی عائد کر دی جس کی وجہ سے میں روانہ نہ ہو سکا۔دسمبر 2018میں درجنوں مسیحیوں کی گرفتاری کے بعد پان اور ان کے چرچ کے دیگر ارکان نے چین چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔پان کے مطابق ہم جانتے تھے کہ چین میں مسیحی برادری کے لیے جگہ مزید تنگ ہو جائے گی اور حکام ہم پر دباؤ میں اضافہ کریں گے، ہم نے چین چھوڑنے اور جنوبی کوریا کے جزیرہ جیجو جانے کا فیصلہ کر لیا۔
پان اور چرچ کے دیگر ارکان دسمبر 2019میں جنوبی کوریا پہنچے، یہ چین کی طرف سے اپنی سرحدیں کووڈ انیس کے سبب بند کرنے سے کچھ ہی وقت قبل کی بات ہے۔لیکن چینی حکومت نے انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعض چرچ ارکان اور ان کے چین میں موجود خاندانوں کے ارکان کو چین کی وزارت برائے ریاستی سکیورٹی کی طرف سے دھمکیاں ملیں۔
بیجنگ سے دھمکیاں ملنے کے باوجود ان چرچ ارکان کو امیگریشن سے متعلق وکلا کی طرف سے بتایا گیا کہ انہیں جنوبی کوریا میں سیاسی پناہ ملنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ اس نے انہیں جنوبی کوریا سے ہٹ کر کوئی اور محفوظ ملک جانے کے لیے سوچنے پر مجبور کر دیا۔جنوبی کوریا کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 2021 میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دینے والوں میں سے محض ایک فیصد کو وہاں سیاسی پناہ دی گئی۔
چرچ کے پاسٹر پان یونگوانگ کے مطابق جب ہمیں معلوم ہوا کہ جنوبی کوریا میں ہمیں پناہ نہیں مل سکے گی، ہم نے طے کیا کہ ہم تھائی لینڈ جائیں گے اور اقوام متحدہ کی مہاجرین سے متعلق ایجنسی کے ذریعے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔تاہم تھائی لینڈ میں ان کے لیے دیگر ممکنہ خطرات موجود تھے۔



