
راجیہ سبھا میں ای ڈی کے اعداد و شمار پیش، ہزاروں مقدمات مگر صرف 43 میں سزا
راجیہ سبھا میں پیش سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ای ڈی نے 4,622 مقدمات درج کیے
نئی دہلی، 6 اگست (اردو دنیانیوز/ایجنسیاں) پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے تازہ سرکاری اعداد و شمار کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کی کارکردگی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ راجیہ سبھا میں ریاستی وزیر خزانہ پنکج چودھری نے تحریری جواب میں بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (PMLA) کے تحت ای ڈی نے 4,622 مقدمات درج کیے، لیکن اب تک صرف 43 مقدمات میں عدالتوں نے سزا سنائی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2021-22 سے 2025-26 کے درمیان درج کیے گئے مقدمات میں سزا کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی۔ صرف 2021-22 میں ای ڈی نے 1,116 کیس درج کیے،تاہم ان میں سے صرف تین مقدمات میں سزا سنائی گئی۔
یہ تفصیلات سی پی ایم کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر وی سیواداسن کے سوال کے جواب میں ایوان میں پیش کی گئیں۔ انہوں نے حکومت سے ای ڈی اور محکمہ انکم ٹیکس کی گزشتہ پانچ برسوں کی کارروائیوں، زیر التوا مقدمات، ٹرائل کی صورتحال، سزا اور بری ہونے والے ملزمان کی تفصیلات طلب کی تھیں۔
حکومت نے مزید بتایا کہ اسی مدت کے دوران ای ڈی نے 1,243 افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے اب تک 104 ملزمان کو مختلف مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرفتاریوں اور تحقیقات کی تعداد کے مقابلے میں عدالتی فیصلوں کی رفتار نسبتاً سست رہی۔
دوسری جانب، محکمہ انکم ٹیکس کے اعداد و شمار نسبتاً بہتر دکھائی دیتے ہیں۔ سرکاری جواب کے مطابق محکمہ نے گزشتہ پانچ برس میں 2,127 استغاثہ کے مقدمات دائر کیے، جن میں 233 مقدمات میں سزا سنائی گئی، جبکہ 854 ملزمان عدالتوں سے بری ہوئے۔ اس طرح محکمہ انکم ٹیکس کی سزا کی شرح تقریباً 10.95 فیصد رہی، جو ای ڈی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار مالیاتی جرائم کی تحقیقات، مقدمات کے عدالتی انجام اور تحقیقاتی اداروں کی کارکردگی پر نئی بحث کو جنم دے سکتے ہیں۔ سیاسی حلقوں اور قانونی ماہرین کی جانب سے توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں ای ڈی کی تحقیقات، مقدمات کی پیش رفت اور عدالتی نظام کی رفتار پر مزید سوالات اٹھائے جائیں گے۔



