لندن ،12اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اعلاء عبدالفتاح Alaa Abdel-Fattah کے اہل خانہ کو امید ہے کہ برطانوی شہریت ان کی جیل سے رہائی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو گی۔ بہت سے دیگر سیاسی قیدیوں کی طرح ہی عبدالفتاح کا بھی پچھلی دہائی کا بیشتر وقت جیل میں گزرا ہے۔
مصر کے جمہوریت نواز معروف کارکن اعلاء عبدالفتاح کے اہل خانہ نے 11 مارچ پیر کے روز بتایا کہ اب انہیں برطانوی شہریت دے دی گئی ہے۔ اعلا عبدالفتاح کی شخصیت سن 2011 کے انقلاب کے دوران ان کی جمہوری کوششوں کے لیے ابھر کر سامنے آئی تھی۔
وہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے جیل میں قید ہیں اور شہریت دینے کے اس اقدام کو مصری حکومت پر دباؤ ڈالنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاکہ انہیں کسی طرح رہا کرایا جا سکے۔
انسانی حقوق کے کارکن کو جن سخت حالات میں برسوں سے سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا ہے، اس کے خلاف بطور احتجاج انہوں نے رمضان کے مقدس مہینے کے آغاز سے ہی بھوک ہڑتال بھی شروع کر رکھی ہے۔ عبدالفتاح کی بہنوں نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ گزشتہ ڈھائی برسوں سے انہیں ایک ایسی کوٹھری میں قید رکھا گیا ہے جہاں سورج کی روشنی بھی نہیں پہنچتی ہے۔
اس کوٹھری میں نہ تو کتابیں ہیں، اور نہ ہی ورزش کا کوئی سامان موجود ہے۔ عبدالفتاح نے گزشتہ 10 برس کا اپنا بیشتر حصہ جیل میں گزارا ہے۔ انہیں سابق صدر حسنی مبارک کے دور اقتدار میں بھی گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں سن 2011 کے انقلاب میں معزول کر دیا گیا۔ اور پھر محمد مرسی کے دور میں بھی، جنہوں نے 2013 میں اپنی معزولی سے قبل مختصر مدت کے لیے بطور صدر کے اپنی خدمات انجام دیں تھیں۔
گزشتہ دسمبر میں ایک عدالت نے انہیں جھوٹی خبریں پھیلانے کا مجرم قرار دیتے ہوئے پانچ برس قید کی سزا سنا دی۔ اس کے علاوہ دوسرے کیسوں میں بھی 40 سالہ عبدالفتاح پر سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے اور دہشت گرد گروپ کا رکن ہونے جیسے الزامات عائد کیے گئے۔
ان کے اہل خانہ اور مصری وکلا نے 2021 میں کہا تھا کہ قاہرہ کی تورا جیل میں عبدالفتاح کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔



