بین الاقوامی خبریں

رشوت ستانی کے الزامات، چین میں معروف کاروباری شخصیت کو 13 برس قید کی سزا

بیجنگ ، 20اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین کے شہر شنگھائی کی عدالت نے رشوت ستانی اور فراڈ کے الزامات پر چینی نژاد کینیڈین بزنس مین شاؤ جیانہوا  Xiao Jianhua کو 13 برس قید کی سزا جب کہ ان کی کمپنی پر آٹھ ارب ڈالر سے زائد کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔مذکورہ بزنس ٹائیکون 2017 سے منظر نامے سے غائب تھے، ان کی کمپنی ٹومارو ہولڈنگزپر عوامی فنڈز کے غیر قانونی استعمال، رشوت ستانی سمیت دیگر الزامات عائد کیے گئے تھے۔شنگھائی انٹرمیڈیٹ فرسٹ کورٹ نے جمعے کو فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جرائم کا اعتراف اور غیر قانونی منافع کی وصولی اور نقصانات کی بحالی میں تعاون کرنے کی بنا پر ان کی سزا میں کمی کی ہے۔

خیال رہے کہ چین میں پیدا ہونے والیشاؤ جیانہوا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اْن کے حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے اہم رہنماؤں سے قریبی روابط ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق انہیں آخری بار ہانگ کانگ کے ایک لگڑری ہوٹل سے وہیل چیئر پر سر ڈھانپے ہوئے دیکھا گیا تھا۔اس وقت یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اْنہیں چین کے سکیورٹی ایجنٹس نے حراست میں لے لیا ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں شاؤ پر نو لاکھ 50 ہزار ڈالرز جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شاؤ اور ان کے گروپ نے چین کے مالیاتی نظام کی کھلی خلاف ورزی کی اور چین کی فنانشل سکیورٹی کو نقصان پہنچایا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شاؤ جیانہوا کی کمپنی نے اسکروٹنی سے بچنے کے لیے کئی سرکاری اہلکاروں کو رشوت، اسٹاک اور جائیدادوں کی مد میں 10 کروڑ ڈالرز ادا کیے۔کینیڈین شہری ہونے کے ناطے جب چینی حکام سے انہیں قونصلر رسائی دینے سے متعلق پوچھا گیا تو چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ چینی قانون دہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا، لہذٰا شاؤ کو قونصلر رسائی نہیں دی جا سکتی۔رائٹرز کے مطابق چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کینیڈا کے سفارت خانے نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button