اسلام آباد ، 24اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) قطر میں رواں برس نومبر اور دسمبر میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کی سیکیورٹی کے لیے پاکستان کی فورسز کی خدمات طلب کرنے کو ماہرین افواجِ پاکستان پر بھرپور اعتماد کا اظہار قرار دے رہے ہیں۔وزیرِ اعظم شہباز شریف دو روزہ دورے پر قطر میں موجود ہیں اور ان کی کابینہ نے پیر کو ہی فیفا ورلڈکپ 2022 کی سیکیورٹی کے لیے پاکستان کی فوج کی خدمات پیش کرنے کی منظوری دی ہے۔پاکستان کی جانب سے فیفا ورلڈ کپ کے لیے افواج کی فراہمی کے فیصلے کو غیر معمولی فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس کو خطے کے حالات کے تناظر میں فوجی اہمیت کی نگاہ سے بھی دیکھا جا رہا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ قطر کا پاکستان کی فوج کا انتخاب اس کی عسکری مہارت کے ساتھ ساتھ دوحہ کے اسلام آباد کے ساتھ برادرانہ تعلقات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کہتے ہیں کہ یہ بڑا اعزاز ہے کہ قطر نے عالمی مقابلے کی سیکیورٹی کے لیے پاکستان کی فوج پر اعتماد کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت کی کوشش ہوگی کہ قطر نے جس اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر پورا اترا جائے۔قطر میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دینے والے سابق سفارت کار سید حسن رضا کہتے ہیں کہ قطر کے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی بہترین تعلقات ہیں تاہم دوحہ کا پاکستان سے سیکیورٹی کی درخواست کا فیصلہ پیشہ وارانہ بنیادوں پر کیا گیا ہے۔
ان کے بقول قطر کی فوج کی تعداد محدود ہے جو فٹ بال کے عالمی مقابلے جیسی سرگرمی کے حفاظتی انتظامات کے لیے کافی نہیں۔ اسی وجہ سے اس نے افواجِ پاکستان کی خدمات کی درخواست کی ہے۔واضح رہے کہ روراں سال کے آغاز میں مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد (نیٹو) نے تصدیق کی تھی کہ وہ قطر میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے لیے سکیورٹی میں مدد فراہم کرے گا۔ جولائی میں ترکی کے وزیرِ داخلہ نے بھی کہا تھا کہ ان کا ملک ورلڈ کپ کے لیے 3250 سکیورٹی اہلکار قطر بھیجے گا۔جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کے خیال میں پاکستان اور قطر کے جس طرح کے دوستانہ تعلقات اور ثقافتی میل جول ہے اس کے باعث دوحہ کی قیادت نے مناسب سمجھا ہوگا کہ پاکستان کی فوج ہی بہترین انتخاب ہے۔
اتنی بڑی تعدا میں تربیت یافتہ اہلکاروں کی فراہمی کسی اور ملک کے لیے آسان نہیں۔ اگر کوئی دوسرا ملک یہ ذمہ داری لیتا تو اس کی بہت سی شرائط ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ قطر کے ترکی اور بھارت سے بھی تعلقات ہیں تاہم اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوحہ نے پاکستان کو اہمیت اور ترجیح دی۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوگی کہ پاکستان کے علاوہ کوئی اور ملک اتنی ہم آہنگی سے یہ خدمات یا کارکردگی نہیں دکھا سکے گا۔طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افواج اس قسم کے عالمی نہ سہی لیکن بڑے مقابلوں کے دوران سیکیورٹی فراہم کرنے کا تجربہ رکھتی ہے اور ملک میں اس قسم کے جو مقابلے ہوتے ہیں اس میں فوج اہم کردار ادا کرتی رہی ہے



