لندن، 15اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)الیکٹرک کاریں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے بانی سربراہ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کو اکتالیس بلین ڈالر نقد کے عوض خریدنے کی پیشکش کر دی ہے۔ اس پیشکش کے فوری بعد ٹوئٹر کے شیئرز کی قیمتوں میں واضح اضافہ ہو گیا۔
ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اپنی اس پیشکش کے ساتھ یہ بھی کہا کہ مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر ایک عظیم الجثہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے تاہم اس کے مزید ترقی کرنے اور آزادی اظہار رائے کا مزید مؤثر ذریعہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ اسے پرائیویٹ بنا دیا جائے۔
ایلون مسک نے کہاکہ ٹوئٹر ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے طور پر اپنے اندر غیر معمولی امکانات لیے ہوئے ہے اور میں ان امکانات کو استعمال میں لاؤں گا۔ ایلون مسک نے ٹوئٹر کے انتظامی بورڈ کے نام لکھے گئے ایک خط میں کہی،جس کی تفصیلات اس بورڈ نےکو جاری کر دیں۔ایلون مسک نے اپنے خط میں ٹوئٹر کے بورڈ کو پیشکش کی کہ وہ اس کمپنی کے ہر شیئر کو 54.20 امریکی ڈالر کے عوض خریدنے پر تیار ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ وہ یکم اپریل کے روز کاروبار کے اختتام پر ریکارڈ کی گئی ٹوئٹر کے ہر شیئر کی قیمت پر 38 فیصد اضافی قیمت یا پریمیم ادا کرنے پر بھی راضی ہیں۔یکم اپریل اسی مہینے عام کاروبار کا وہ آخری دن تھا، جس کے اگلے ہی روز یہ بات بھی منظر عام پر آ گئی تھی کہ الیکٹرک کاریں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے بانی سربراہ نے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے نو فیصد سے زائد حصص خرید لیے ہیں۔
ایلون مسک کی طرف سے ٹوئٹر کے نو فیصد سے زائد حصص خریدے جانے کے بعد کمپنی کے بورڈ نے اس نئے شیئر ہولڈر کو یہ پیشکش بھی کر دی تھی کہ وہ چاہیں تو ٹوئٹر کے انتظامی بورڈ کے رکن بھی بن سکتے ہیں۔ ایلون مسک نے تاہم یہ پیشکش مسترد کر دی تھی۔اقتصادی ماہرین کے مطابق مسک نے ٹوئٹر کے بورڈ کی رکنیت سے اس لیے انکار کر دیا تھا کہ وہ پہلے ہی سے یہ ارادہ رکھتے تھے کہ وہ یہ سوشل میڈیا کمپنی خرید لیں۔
اس کا ایک ثبوت ان کا ٹوئٹر کے بورڈ کو لکھا جانے والا خط بھی ہے۔دوسری طرف ایلون مسک کو ٹوئٹر کے بورڈ کا رکن بن جانے کا ایک ممکنہ کاروباری نقصان یہ ہوتا کہ تب ان کے لیے اس پوری کمپنی کو خریدنے کی کوشش کرنا بہت مشکل ہو جاتا، کیونکہ بورڈ ممبر کے طور پر وہ زیادہ سے زیادہ ٹوئٹر کے 15 فیصد سے کم حصص ہی خرید سکتے تھے۔
ایلون مسک نے ٹوئٹر کے چیئرمین بریٹ ٹیلر Twitter chairman Bret Taylor کے نام اپنے خط میں لکھا کہ مجھے اس کمپنی میں سرمایہ کاری کرنے کے بعد احساس ہوا کہ اپنی موجودہ شکل میں یہ کمپنی نہ تو بہت ترقی کر سکتی ہے اور نہ ہی یہ اپنا لازمی سماجی کردار ادا کر سکتی ہے۔



