سرورققومی خبریں

FSSAI نے ڈابر کو ’100 فیصد‘ دعووں والی شہد، گھی اور دیگر غذائی مصنوعات کی فروخت روکنے کا حکم دے دیا

فوڈ ریگولیٹر نے ڈابر کو ’100 فیصد‘ خالص، قدرتی اور آرگینک جیسے دعوے ہٹانے کا حکم دے دیا، شہد، گھی، ایپل سائڈر ونیگر سمیت متعدد مصنوعات پر کارروائی، 15 دن میں رپورٹ طلب۔

نئی دہلی، 4 اگست (اردودنیا نیوز/ایجنسیاں): اگر آپ ڈابر کا شہد، دیسی گھی، ناریل کا پانی یا ایپل سائڈر ونیگر اس یقین کے ساتھ خریدتے رہے ہیں کہ ان پر درج "100 فیصد خالص” یا "100 فیصد قدرتی” جیسے دعوے مکمل طور پر درست ہیں، تو یہ خبر آپ کے لیے اہم ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (FSSAI) نے ان دعوؤں کو صارفین کے لیے گمراہ کن قرار دیتے ہوئے ڈابر انڈیا لمیٹڈ کے خلاف سخت کارروائی کی ہے اور کمپنی کو ایسے دعووں کے ساتھ متعدد غذائی مصنوعات کی فروخت فوری طور پر روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق ڈابر کی مختلف مصنوعات، جن میں آرگینک شہد، ایپل سائڈر ونیگر، ورجن ناریل کا تیل، تل کا تیل، گائے کا گھی، ناریل کا پانی اور ناریل کا دودھ شامل ہیں، ان پر "100% Natural”، "100% Pure”، "100% Purity Guaranteed”، "100% Organic” اور "100% Tender Coconut Water” جیسے الفاظ استعمال کیے جا رہے تھے۔ ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے دعوے نہ صرف مبہم ہیں بلکہ ان کی مکمل تصدیق بھی ممکن نہیں، اس لیے یہ صارفین کو غلط تاثر دے سکتے ہیں اور فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (ایڈورٹائزنگ اینڈ کلیمز) ریگولیشنز 2018 سے مطابقت نہیں رکھتے۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ڈابر ہمالین آرگینک ایپل سائڈر ونیگر اور ڈابر آرگینک شہد پر جیوک بھارت (Jaivik Bharat) کا لوگو استعمال کیا جا رہا تھا، حالانکہ متعلقہ مصنوعات کے لیے ضروری آرگینک منظوری دستیاب نہیں تھی۔ اسی طرح ڈابر ہوم میڈ کوکونٹ ملک کو "100% Purity” کے دعوے کے ساتھ فروخت کیا جا رہا تھا، جبکہ موجودہ قوانین کے تحت کمپاؤنڈ فوڈز کے لیے ایسا دعویٰ قابل قبول نہیں ہے۔

فوڈ ریگولیٹر نے بتایا کہ کمپنی کو اس سے قبل بھی نوٹس جاری کر کے متنبہ کیا گیا تھا کہ وہ "100 فیصد” جیسے دعوے اپنی مصنوعات اور تشہیری مواد سے ہٹا دے، مگر اس حوالے سے خاطر خواہ اصلاحی اقدامات سامنے نہیں آئے۔ اسی بنا پر اب ایف ایس ایس اے آئی نے ڈابر کو باضابطہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نوٹس میں شامل تمام مصنوعات سمیت ایسی ہر پروڈکٹ کی فروخت فوری طور پر بند کرے جس پر گمراہ کن "100 فیصد” دعوے درج ہیں، اور اس حوالے سے کیے گئے اقدامات کی ایکشن ٹیکن رپورٹ (ATR) پندرہ دن کے اندر جمع کرائے۔

دوسری جانب ڈابر انڈیا نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ کمپنی کو ایف ایس ایس اے آئی کا نوٹس موصول ہو چکا ہے اور اس میں درج تمام نکات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق ویب سائٹ پر موجود مواد اور مصنوعات کی معلومات کی جانچ جاری ہے تاکہ ضابطوں کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران ایف ایس ایس اے آئی نے گمراہ کن اشتہارات، لیبلنگ اور غیر مصدقہ دعوؤں کے خلاف نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ اتھارٹی مختلف فوڈ کمپنیوں، ای کامرس پلیٹ فارمز، انرجی ڈرنکس اور دیگر غذائی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائیاں کر رہی ہے۔ ریگولیٹر کا مؤقف ہے کہ اس مہم کا مقصد صارفین کو درست معلومات فراہم کرنا، شفافیت کو فروغ دینا اور غذائی مصنوعات کی تشہیر میں قانون کی مکمل پابندی کو یقینی بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button