مقبوضہ بیت المقدس ، 13اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ روسی فوسل ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے پر تول رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل گیس کے اس خلا کو اپنے سمندری ذخائر سے پرکرنے کا خواہش مند ہے۔یورپی یونین کی ریاستیں ٹائم ٹیبل کے حوالے سے منقسم ہیں لیکن یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈئیر لائن کے مطابق انہیں امید ہے کہ یورپی یونین سن 2027 تک روسی گیس، تیل اور کوئلے پر انحصار ختم کر دے گی۔
حکام اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر یونان یا ترکی کے راستے ایک یا زیادہ پائپ لائنیں تعمیر کر سکتا ہے۔دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ مصر کی مہیا کی جانے والی گیس کی مقدار میں اضافہ کرے تاکہ وہاں سے مائع گیس بحری جہازوں کے ذریعے یورپ تک پہنچائی جائے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ یائیر لاپیڈ نے یونان کے حالیہ دورے کے بعد کہا تھا کہ یوکرین کی جنگ یورپ اور مشرق وسطیٰ کی توانائی کی منڈی کے ڈھانچے کو تبدیل کر دے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم توانائی کی منڈی پر زور دیتے ہوئے اضافی اقتصادی تعاون کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔اسرائیل گیس کی برآمد کے نئے راستے بنانے کے لیے برسوں سے کام کر رہا ہے لیکن اس کے اب تک ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں۔
ترکی کے گزشتہ ایک دہائی سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار چلے آ رہے تھے لیکن اب ان میں بہتری پیدا ہو رہی ہے۔ اب ترکی نے بھی ایک نئی پائپ لائن میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور آنے والے ہفتوں میں اس کے وزیر توانائی کی اسرائیل آمد متوقع ہے۔
ترکی کے ساتھ سفارتی کشیدگی کے دوران اسرائیل نے سن 2020میں یونان اور قبرص کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد اسرائیل سے یورپ تک ان دو ممالک کے ذریعے ’ایسٹ میڈ پائپ لائن‘ تعمیر کرنا تھا۔
ترکی اس منصوبے کا شدید مخالف تھا اور گزشتہ ہفتے ایک اعلیٰ امریکی سفارتی عہدیدار نے بھی کہا ہے کہ اس پائپ لائن کو تعمیر کرنے میں بہت وقت لگ سکتا ہے اور اس کی تعمیر بھی انتہائی مہنگی ہو گی۔ اگر یونان اور قبرص کی سمندری حدود کو استعمال کیا جائے تو اس پائپ لائن پر تقریبا چھ بلین ڈالر خرچ ہوں گے اور تعمیر میں تقریبا چار برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
دوسری جانب ترکی کے ساتھ گیس پائپ لائن تعمیر کی جائے تو اس پر ڈیڑھ ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور اسے دو سے تین برسوں میں تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ یونان اور اس کا علاقائی حریف ترکی دونوں ہی اسرائیل کے ساتھ مل کر گیس پائپ لائن کی تعمیر کے لیے کوشاں ہیں اور اسرائیل کو ان علاقائی اتحادیوں کے درمیان احتیاط سے چلنا ہو گا۔



