
گوتم موریہ قتل کیس: شاہجہاں پور میں 21 روز بعد سمیِر ادریس کا مکان منہدم، اہل خانہ کا امتیازی کارروائی کا الزام
اہل خانہ نے گھر مسمار کرنے پر امتیازی سلوک کا الزام عائد کیا
شاہجہاں پور، 20 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اترپردیش کے شاہجہاں پور ضلع میں 31 جولائی کو 20 سالہ سائیکل مرمت کارکن گوتم موریہ کے قتل کے 21 روز بعد پولیس نے معاملے کے مرکزی ملزم سمیِر ادریس کے خاندانی مکان کو منہدم کردیا۔ یہ کارروائی جمعرات کو کنتھ تھانہ علاقے کے کمل نین پور میں کی گئی۔
ضلع انتظامیہ کے مطابق مکان کے تعمیراتی نقشے کو منظوری حاصل نہیں تھی، جس کے بعد مقامی بلدیاتی ادارے کی جانب سے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران علاقے میں بھاری پولیس فورس اور اضافی صوبائی مسلح کانسٹیبلری (PAC) اہلکار تعینات کیے گئے اور بیرونی افراد کی آمدورفت محدود کردی گئی۔
ایس ڈی ایم راجنیش مشرا کے مطابق کنتھ پنچایت کے اہلکاروں نے یکم اگست کو مکان کا سروے کیا تھی اور پایا تھا کہ اس کا کوئی منظور شدہ تعمیراتی نقشہ موجود نہیں ہے۔
انتظامیہ نے مکان پر نوٹس چسپاں کرتے ہوئے خاندان سے 10 اگست تک جواب طلب کیا تھا۔ جواب نہ ملنے پر مزید پانچ دن کی مہلت دی گئی، تاہم حکام کے مطابق اس مدت کے بعد بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا، جس کے بعد مکان منہدم کرنے کی کارروائی کی گئی۔
اتفاق سے یکم اگست کو ہی سمیِر ادریس کو قتل کے ہتھیار کی برآمدگی کے لیے لے جایا گیا تھا، جہاں پولیس کے مطابق اس نے اہلکاروں پر حملہ کرکے فرار ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ اسے ٹانگ میں گولی مار کر قابو کیا گیا۔
مکان کی نگرانی کے لیے تقریباً 50 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر باہر کے لوگوں کی آمدورفت محدود رکھی۔
سمیِر کی بہن نے الزام عائد کیا کہ خاندان کا مکان صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل کے مقدمے میں دیگر افراد بھی ملزم ہیں، اس کے باوجود کارروائی صرف ان کے گھر کے خلاف کی گئی۔
ملزم کی ایک رشتہ دار انیسہ، جو اسی مکان میں رہتی تھیں، نے حکام سے اپنے خاندان کے حصے کو منہدم نہ کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں سمیت ان کے خاندان کے پاس رہنے کے لیے کوئی دوسری جگہ نہیں ہے اور رشتہ دار بھی انہیں پناہ دینے کے لیے تیار نہیں۔
پولیس کے مطابق کمل نین پور کا سائیکل مرمت کی دکان پر کام کرنے والا گوتم موریہ اور سمیِر ایک ہی خاتون کو جانتے تھے۔ تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ خاتون نے سمیِر سے بات چیت شروع کی تو گوتم ناراض ہوگیا۔
پولیس کے مطابق 31 جولائی کی رات دونوں کے درمیان اسی معاملے پر بحث ہوئی۔ الزام ہے کہ بعد میں سمیِر نے دلاورپور گاؤں کے قریب گوتم سے موٹر سائیکل پر لفٹ مانگی، جہاں اس کے تین ساتھی پہلے سے موجود تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہاں سمیِر نے گوتم پر چاقو سے حملہ کیا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق گوتم کے جسم پر چاقو کے 16 گہرے زخم پائے گئے۔ پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قتل کے بعد سمیِر نے انسٹاگرام پر اسٹیٹس اپ لوڈ کیا تھا۔
پولیس نے سازش اور قتل کے بعد سمیِر کی مدد کرنے کے الزام میں اس کے والد لیاقت علی، بھائی تدیم اور کزن راجا کو گرفتار کیا۔ تفتیش نے 5 اگست کو اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب پولیس نے مذکورہ خاتون کے بھائی اشونی کو بھی گرفتار کرلیا۔
پولیس کا الزام ہے کہ اشونی نے سمیِر کو گوتم کے خلاف اکسانے میں کردار ادا کیا۔ اس طرح کیس میں مجموعی طور پر پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سمیِر، اس کے تین رشتہ دار اور اشونی شامل ہیں۔
شاہجہاں پور کے ایس ایس پی نے کہا کہ پولیس نے ڈیجیٹل شواہد جمع کیے ہیں اور ملزمان کو سخت سزا دلانے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس جلد عدالت میں چارج شیٹ داخل کرے گی اور معاملے کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں کرانے کے لیے ضلع جج سے درخواست بھی کی جائے گی۔
📍 शाहजहांपुर, उत्तर प्रदेश
गौतम मौर्य हत्याकांड के आरोपी समीर इदरीस के घर पर 21वें दिन बुलडोजर चला। दो JCB ने देखते ही देखते घर को मिट्टी में मिला दिया।
आरोपी परिवार की महिला अनीसा ने आंसुओं के साथ कहा “हमारा क्या कसूर है? हम तो बेगुनाह हैं, हमारा मकान क्यों गिराया जा रहा है?… pic.twitter.com/0wp1yxfQSo
— Muslim Voice Cell (@MuslimVoiceCell) August 20, 2026



