
بیروت :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ الشیخ صالح العاروری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے اسرائیلی ریاست کو ایک قطعی پیغام بھیجا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو مسائل ہیں، انہیں نقصان پہنچانا اپنے لیے جہنم کے دروازے کھول دینا ہے۔العاروری نے المیادین ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران وضاحت کی کہ پہلا مسئلہ القدس اور مسجد اقصیٰ کا ہے۔
نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے یا ان پر حملہ کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا مسئلہ جیلوں میں قیدیوں سے متعلق ہے۔ ہم نے تمام فریقین کو مطلع کیا کہ اگر ہم رمضان میں داخل ہوتے ہیں اور قیدیوں کی ہڑتال جاری رہتی ہے تو یہ چیزیں خطرے کی طرف بڑھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے قابض ریاست، دنیا اور خطے کے ممالک کی طرف سے ایک تیز تحریک دیکھی ہے۔ رمضان کے بابرکت مہینے میں جو کچھ ہو سکتا ہے اس پر قابو پایا جا سکے۔ اس بات پر زور دیا کہ قابض ریاست القدس اور الاقصیٰ کے حوالے سے ایک چیلنج کے سامنے ہے۔
اگر یہ رمضان کے مہینے میں نمازیوں کو داخل ہونے اور نماز پڑھنے سے روکتی ہے یا ان پر حملہ کرتی ہے تو یہ چیزیں اڑا دے گی۔العاروری نے کہا کہ آپریشن سیف القدس نے دشمن کے لیے خطرناک اسٹریٹجک پہلوؤں کا انکشاف کیا۔ خاص طور دشمن اپنی سماجی سلامتی کو کھو رہا ہے کیونکہ ہمارے لوگ القدس اور غزہ میں اپنے لوگوں کی حمایت میں گھر پر اٹھ کھڑے ہوئے۔
القدس کی جنگ میں مغربی کنارے کے کردار کی طرف رجوع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مغربی کنارہ القدس کی لڑائی میں اس سے کہیں زیادہ گہرا ہو گیا جو میڈیا میں شائع ہوا، جو غزہ کے واقعات کے دوران مصروف تھا۔
اسرائیل کا بحرین میں ملٹری اتاشی کی تقرری پر غور
مقبوضہ بیت المقدس ، 29مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) بحرین میں اسرائیلی سفیر ایتان نائیہ نے کہا ہیکہ اسرائیل عنقریب منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر میں ایک ملٹری اتاشی کا تقرر کرے گا۔ ایسے وقت میں جب بحرین اور تین دیگر عرب ممالک ایک غیر معمولی کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔
اسرائیل میں سربراہی اجلاس میں بحرین نے بھی شرکت کی ہے۔نایہ نے آرمی ریڈیو کو بتایا کہ یہ جلد ہی ہوگاکہ بیڑے میں اتاشی کی تقرری کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ مختلف بیوروکریٹک طریقہ کار کے درمیان ہو رہا ہے۔
میرے خیال میں موسم گرما تک ہمارے پاس دیگر اہلکاروں کے ساتھ مزید مکمل عملہ ہو جائے گا جو سفارت خانے میں شامل ہوں گے۔اسرائیل خلیجی ریاستوں اور خطے میں امریکی فوجی دستوں کے ساتھ میل جول پر کام کر رہا ہے۔
رمضان المبارک کے دوران مکہ مکرمہ میں 10 اسپتال اور 82 مراکز صحت تیار
ریاض، 29مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مکہ مکرمہ ہیلتھ کلسٹر نے رمضان المبارک کے مقدس موسم کے لیے اپنی مکمل تیاریوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مقدس دارالحکومت میں 10 اسپتالوں اور 82 مراکز صحت کا انتظام کیا گیا ہے جو ہنگامی بنیادوں پرمریضوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں مدد کریں گے۔
ان اسپتالوں میں ایمرجنسی سینٹرز 24 گھنٹے کام کریں گے۔ مسجد الحرام کے شمالی جانب شاہ عبداللہ گیٹ کے سامنے واقع عظیم الشان مسجد میں زائرین اور معتمرین کو صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے ایک بڑا اسپتال قائم کیا گیا ہے۔ میڈیکل کمپلیکس کی راہداریوں میں تین ہنگامی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں اور یہ سب ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے جدید ترین آلات سے لیس ہیں۔
اس کے علاوہ 5 موبائل کلینکس جن میں مربوط طبی ٹیمیں شامل ہوں گی بھی زائرین اور رمضان کے دوران روزداروں کیلیے موجود رہیں گی۔ یہ موبائل کلینکس وسطی مکہ معظمہ اور مکہ مکرمہ کے داخلی راستے پر تقسیم کیے گئے ہیں، تاکہ لوگوں کو صحت کی خدمات فراہم کی جاسکیں۔اسی تناظر میں اسپتالوں اور مراکز صحت میں تمام شعبہ جات ایک ایسے منصوبے کے مطابق کام کرتے ہیں جو کام کے دورانیے اور اوقات کے مطابق ہو اور اس کے دوران کام کے معیار پر کوئی اثر نہ پڑے۔
24 گھنٹے چار مختلف ٹیمیں چھ گھنٹے کی شفٹ پر کام کریں گی۔مکہ مکرمہ کے متعدد اسپتال بھی ہنگامی صورت حال کے لئے تیار رہیں گے۔
شاہ عبداللہ میڈیکل سٹی ایک ایسا اسپتال ہے جو دل اور دماغی فالج کے معاملات سے نمٹنے کے لیے مختص ہے۔جہاں بین الاقوامی سطح پر مخصوص وقت کے مطابق مریضوں کو ان کے پاس منتقل کیا جاتا ہے۔



