لندن،24اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین کئی ہفتوں سے روسی حملوں سے دفاع کے لیے مغربی ممالک سے مزید اسلحہ اور زیادہ طاقتور ہتھیاروں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ نیٹو کے کئی رکن ممالک نے کیف کو کچھ ہتھیاروں کی ترسیل کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ ہتھیار کونسے ہیں؟ایک خودمختار ملک کے طور پر یوکرین کی بقا کا فیصلہ ڈونباس کا علاقہ کرے گا۔
اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ روسی حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرینی فورسز کونسے ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں یوکرینی قیادت مغربی ممالک سے اپنی مسلح افواج کو بھاری ہتھیاروں سے لیس کرنے کا سختی سے مطالبہ کر رہی ہے۔
مثال کے طور پر، یوکرین کو روس سے اپنے دفاع کے لیے ٹینک شکن اور طیارہ شکن میزائل، جنگی بحری جہاز، جنگی ہیلی کاپٹر اور لڑاکا طیارے درکار ہیں۔دریں اثنا نیٹو کے تقریباً تمام ممبر ملکوں نے یوکرین کو کم از کم چھوٹے ہتھیار، حفاظتی سامان یا گولہ بارود تو مہیا کیے ہیں لیکن کوئی جارحانہ ہتھیار نہیں بھیجے۔
کیونکہ اس بات کا خطرہ ہے کہ روس اسے جنگ میں مداخلت تصور کرے گا اور اس عمل کو نیٹو کے خلاف حملے کے بہانے کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اب، جنوبی مشرقی یوکرین میں بڑے پیمانے پر روسی جارحیت کے تناظر میں یہ تمام ممالک اس بارے میں اپنا موقف تبدیل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ نیٹو ممالک نے یوکرین کے لیے ایک ایک کر کے مختلف ہتھیاروں کی فراہمی کا اعلان شروع کردیا ہے۔ ہتھیاروں کی فہرست کی تفصیلات تو کھل کر عام نہیں کی گئیں لیکن کچھ معلومات ضرور بتائی گئی ہیں۔
آئیے جانتے ہیں کہ یوکرین کو کونسا ملک کونسے ہتھیار بھیج رہا ہے۔پراگ حکومت ان چند پہلے ممالک میں سے ایک ہے، جس نے یوکرین کو کسی بھی طرح کا اسلحہ مہیا کرنے کی منظوری دی تھی۔
جنوری کے اوائل میں یوکرینی سرحد پر روسی فوجیوں کی تعیناتی کے سبب چیک ریپبلک نے یوکرین کو ایسا بارودی مواد فراہم کیا جو سابقہ سوویت یونین کے ہتھیاروں کے نظام سے مماثلت رکھتا تھا۔اس کے علاوہ چیک ریپبلک یوکرین کو ٹینک ارسال کرنے والا پہلا ملک تھا۔
ان میں صرف دفاعی ٹینک (بی ایم پی) شامل نہیں بلکہ درجنوں T-72 جنگی ٹینکس بھی شامل ہیں۔ یوکرینی فوج یہ دونوں ٹینک استعمال کر رہی ہے۔پولینڈ نے یوکرین میں جنگ سے پہلے ہی یوکرینی فوج کو جدید تر بنانے میں اپنا کردار کیا تھا اور اپنے پڑوسی ملک کو روسی ڈیزائن کے ہتھیاروں کے سسٹم اور گولہ بارود فراہم کیے۔
مارچ کے اوائل میں پولینڈ کی جانب سے یوکرین کو جنگی طیارے MiG-29 کی فراہمی کے اقدام کو نیٹو کے شراکت داروں نے روک دیا تھا۔ رواں ماہ اپریل میں وارسا حکومت نے اپنی سرزمین پر امریکی جوہری ہتھیاروں کی تنصیبات قائم کرنے کی بات کی تھی۔
اس ملک نے اب یوکرین کے لیے بھاری ہتھیاروں سمیت دیگر اسلحے کی ڈیلیوری کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے۔ لیکن اس بارے میں مزید تفصیلات عام کرنے میں وہ کافی محتاط ہے۔ جنوب مشرقی یورپی ملک سلووینیا پہلے سے سوویت دور کے ٹینک یوکرین کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے۔
جرمنی نے اس کے بدلے میں سلووینیا کو مختلف قسم کی بکتر بند گاڑیاں فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سلووینیا جرمنی کے تیار کردہ پوما، باکسر اور لیوپرڈ ٹو جیسے جدید تر جنگی اور دفاعی ٹینکوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ترکی نے یوکرین کو حالیہ سالوں میں کم از کم بیس بائراکتار – ٹی بی ٹو ماڈل کے جنگی اور جاسوسی ڈرون فروخت کیے ہیں۔ اس فراہمی کا موجودہ جنگ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں لیکن اِن ترک ڈرون طیاروں کا شمار نیٹو ممالک کے ایسے چند بھاری ہتھیاروں میں ہوتا ہے۔
جو پہلے یوکرین استعمال کرچکا ہے۔جرمن حکومت یوکرین کو بھاری ہتھیار فراہم کرنے کے معاملے میں مسلسل ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ اس کے بجائے وہ کیف کو ٹینک شکن ہتھیار، دستی بم، ڈرون، حفاظتی سامان اور گولہ بارود مہیا کر رہی ہے۔اٹلی اور فرانس کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کے بارے میں بہت کم معلومات عام کی گئی ہے جبکہ بیلجیئم، ناروے اورکینیڈا عمومی طور پر بھاری ہتھیار دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے سمندری اہداف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں کی فراہمی کا تذکرہ کیا تھا اور ان کے ڈچ ہم منصب مارک روٹے نے بکتر بند گاڑیوں کا نام لیتے ہوئے اس بارے میں قدر واضح معلومات فراہم کی ہے۔



