بین الاقوامی خبریں

 طالبان کو افغانستان میں فتح نظرآ رہی ہے تو وہ پاکستان کی کیوں سنیں گے:عمران خان  

 دوشنبہ ؍اسلام آباد، 16جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستانی #وزیرِاعظم #عمران خان نے کہا ہے کہ #طالبان کو جب #افغانستان میں اپنی فتح کی امید نظر آ رہی ہے تو وہ پاکستان کی کیوں سنیں گے؟ #ازبکستان میں وسطی اور جنوبی ایشیائی خطے میں رابطہ کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے افغان صدر #اشرف غنی کی پاکستان پر تنقید کے جواب میں سوال اٹھایا کہ جب افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تو اس کے بعد طالبان کیوں بات چیت پر راضی ہوئے؟
اور اس کے بعد امریکہ کے چند ہزار فوجی ہی افغانستان میں تعینات رہے۔خطاب کے دوران عمران خان نے لکھی ہوئی تقریر کچھ دیر کے لیے پڑھنا چھوڑ دی اور کہا کہ وہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کے خطاب کے حوالے سے کچھ کہنا چاہتے ہیں کیوں کہ انہوں نے افغان تنازع میں پاکستان کے منفی کردار کا ذکر کیا ہے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم نے افغان صدر اشرف غنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغان تنازع سے سب سے زیادہ جو ملک متاثر ہوا ہے وہ #پاکستان ہے۔
ان کے بقول پاکستان میں گزشتہ 15 برس میں 70 ہزار شہری ہلاک ہوئے۔ پاکستان کی معیشت اپنے انتہائی مشکل دور سے نکل کر اب بہتری کی جانب جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ یقین دہانی کرانا چاہتے ہیں کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے کسی بھی ملک نے اس قدر سخت جدوجہد نہیں کی جتنی پاکستان نے کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے کانفرنس سے خطاب کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ کئی ہزار جنگجو پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں طالبان سے جنگ کی جائے گی۔عمران خان نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والا قدرتی خطہ اور پل ہے۔ البتہ رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے افغانستان میں امن سب سے اہم ترین جزو ہے۔افغان تنازع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام سب سے اہم ہے۔ اس سے خطہ براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔
اسلام آباد کے کردار کے حوالے سے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام اور مفاہمت کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی ہمیشہ حمایت کرتا رہے گا۔ اس سے افغانستان میں بھی ترقی ہو گی اور معاشی استحکام آئے گا۔افغانستان میں قیامِ امن کے حوالے سے کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں سیاسی تصفیے کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ ساتھ خطے اور بین الاقوامی طاقتوں کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی تاکہ تنازع کا پرُ امن حل نکالا جا سکے۔کابل کی جانب سے پاکستان پر لگانے جانے والے الزامات کے حوالے سے پاکستان کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے اس کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھیرانا انتہائی غیر منصفانہ عمل ہے۔
اپنے افغانستان کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو اگر افغانستان میں امن کے قیام کی خواہش نہ ہوتی تو وہ کیوں کابل کا دورہ کرتے۔ اس سب کا مقصد یہی تھا کہ افغانستان پاکستان کو امن کے قیام میں شراکت دار کے طور پر دیکھے۔عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے حالات کے لیے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات سے انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان ازبکستان کے صدر کی دعوت پر دو روزہ دورے پر جمعرات کو تاشقند پہنچے تھے۔
اس دورے کے دوران پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہے۔ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یاداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم عمران خان نے ازبکستان کی میزبانی میں بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی ہے جس کا محور علاقائی رابطوں کے #امکانات اور چیلنجز ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button