
سپریم کورٹ کا عمران خان کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا حکم
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔
اسلام آباد، 18 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیز) پاکستان کے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو صحت سے متعلق خدشات کے باعث جیل سے نجی اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ عمران خان کو علاج اور طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کی صحت کا جائزہ لیا جائے گا۔
پی ٹی آئی کے ترجمان نعیم حیدر پنجوتھا کے مطابق سپریم کورٹ نے عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق انہیں 16 ستمبر تک اسپتال میں رکھا جائے گا۔ اس دوران ان کا طبی معائنہ اور علاج جاری رہے گا تاکہ ان کی صحت کی موجودہ صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔
عدالت نے عمران خان کے اہل خانہ کو ان سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت بھی دی ہے۔ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی عمران خان تک رسائی دینے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ سابق وزیراعظم کی صحت کا جائزہ لینے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ اس بورڈ میں ماہر ڈاکٹروں کو شامل کیا جائے گا تاکہ عمران خان کی طبی حالت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جاسکے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کے وکلا اور اہل خانہ کو ان کی طبی رپورٹس میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ عمران خان کی صحت کے معاملے کو سیاسی سرگرمیوں یا سیاسی بیانات کا موضوع نہ بنایا جائے اور طبی معاملات کو ڈاکٹروں اور متعلقہ اداروں تک محدود رکھا جائے۔
عمران خان کی صحت گزشتہ کئی ماہ سے ان کی جماعت اور اہل خانہ کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ان کے وکلا کی جانب سے مختلف مواقع پر دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ جیل میں رہنے کے دوران ان کی صحت متاثر ہوئی ہے، جبکہ خاص طور پر دائیں آنکھ کی بینائی سے متعلق بھی خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔
پاکستان کے سابق صدر عارف علوی نے بھی ماضی میں عمران خان کی طبی رپورٹس پر تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹس میں بلڈ پریشر، دل کی تیز دھڑکن، بے چینی اور ذہنی دباؤ سے متعلق مسائل کا ذکر کیا گیا تھا۔ عارف علوی نے عمران خان کی طویل قید اور تنہائی کو بھی ان کی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے باعث تشویش قرار دیا تھا۔
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ انہیں مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، تاہم وہ اپنے خلاف مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کی جماعت اور اہل خانہ طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ عمران خان کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان کے ذاتی معالجین کو بھی ان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
سپریم کورٹ کے تازہ حکم کے بعد عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ عدالت کے حکم کا مطلب عمران خان کی مستقل رہائی نہیں بلکہ طبی علاج اور نگرانی کے لیے انہیں جیل سے اسپتال منتقل کرنا ہے۔



