بین الاقوامی خبریں

شمالی کوریا کے جواب میں جنوبی کوریا نے بھی میزائل فائر کردیئے

شمالی کوریا نے جنوب کی جانب ایک میزائل داغا، جو جزیرہ نما کی تقسیم کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان کی سمندری سرحد کو پار کر گیا۔

شمالی کوریا کے میزائل تجربے پر جنوبی کوریا میں خطرے کے سائرن بج اٹھے  

سیول، 2نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)شمالی کوریا نے جنوب کی جانب ایک میزائل داغا، جو جزیرہ نما کی تقسیم کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان کی سمندری سرحد کو پار کر گیا۔ اس کے جواب میں جنوبی کوریا نے بھی تین میزائل فائر کر دیے۔شمالی کوریا نے بدھ کے روز 10 سے زیادہ میزائل فائر کیے، جس میں ایک ایسا میزائل بھی شامل ہے، جو جنوبی کوریا کے سمندری پانیوں کے بالکل قریب جا کر گرا۔ مختصر فاصلے تک مار کرنے والا یہ بیلسٹک میزائل جنوب کے شہر سوکچو سے تقریباً 60 کلو میٹر کے فاصلے پر گرا، جس سے الیونگڈو جزیرے پر فضائی حملے کا الارم متحرک ہو گیا۔جنوبی کوریا کے حکام کو علاقے کے لوگوں کو بچنے کے لیے بنکر میں پناہ لینے کی وارننگ بھی جاری کرنی پڑی۔

جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق سن 1953 میں کوریائی جنگ کے خاتمے کے بعد جب جزیرہ نما کی تقسیم ہوئی تھی، اس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شمالی کوریا کا ایک میزائل جنوبی کوریا کے علاقائی پانیوں کے اتنے قریب گرا ہو۔ اس کے فوری بعد جنوبی کوریا نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے شمالی کوریا پر تین میزائل فائر کیے۔ جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے شمالی کوریا کے اس میزائل لانچ کو ایک مؤثر علاقائی حملہ قرار دیا۔جنوبی کوریا کے صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا انہوں نے آج اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ شمالی کوریا نے ایک میزائل کے ذریعے اشتعال انگیزی کی ہے، جو ایک طرح سے مؤثر علاقائی حملہ ہے۔

تقسیم کے بعد پہلی بار میزائل شمالی کوریا کی حدود کی لکیر کو عبور کیا۔جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ پیونگ یانگ نے دو نومبر بدھ کی صبح مشرق اور مغرب کی جانب کم سے کم 10 میزائل فائر کیے ہیں۔ بعد میں اس نے بتایا کہ شمالی کوریا کی اس کارروائی کے جواب میں، اس نے اپنی سمندری سرحد کے شمال کی طرف فضا سے زمین پر مار کرنے والے تین میزائل داغے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے تازہ ترین جارحیت کا فوری طور پر جواب دینے کا حکم دیا گیا ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button