ریاض،15ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب میں حرمین شریفین کی زیارت، عمرہ اور حج کے خواہش مند افراد کو فراہم کی جانے والی خدمات میں اب مصنوعی ذہانت کی تکنیک سے بھی کام لیا جائے گا۔ مملکت میں مجمع کو منظم کرنے کے لیے آرٹی فیشل ٹکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ اس پیش رفت کی بازگشت ریاض میں ہونے والی آرٹیفیشل انٹیلی جنس سمٹ کے دوران سنائی دی۔اس بات کا اعلان سعودی عرب کی وزارت داخلہ میں پبلک سکیورٹی کے ڈائریکٹر لیفٹیننٹ جنرل محمد الباسمی نے سمٹ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ہمہ جہت استعمال‘کے عنوان سے منعقد ہونے والی ایک پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سمٹ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر سرپرستی 13 ستمبر سے ریاض میں جاری ہے اور آج اس کا آخری روز ہے۔لیفٹیننٹ جنرل محمد الباسمی نے مجمع کو منظم کرنے سے متعلق امور پر بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سال مملکت کے اندر اور بیرون ملک سے زائرین بڑی تعداد میں حرمین شریفین سمیت دوسرے مقدس مقامات کی زیارت کرنے سعودی عرب آتی ہے۔ زائرین کی بڑی تعداد کی وجہ سے ہونے والی بھیڑ کو کنڑول کرنے کے لئے جدید ٹکنالوجی اور طریقوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔جنرل الباسمی نے بتایا کہ کم سے کم 2.5 ملین معتمرین مکہ اور مدینہ حج کی غرض سے آتے ہیں۔
مملکت کے ویژن 2030 پروگرام کی روشنی میں زیادہ سے زیادہ حجاج اور متعمرین کی مملکت آمد کے لئے کوششیں جاری ہیں، ایسے میں پیدا ہونے والے ازدھام کو ٹکنالوجی کے جدید طریقوں سے کنڑول کرنے کی کوششوں میں بہتری لائی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مقدس مساجد میں حال ہی میں متعارف کرائی جانے والی منصوعی ذہانت تکنیک سے بڑی تعداد میں زائرین کے مساجد میں داخلے اور باہر نکلتے وقت رش کنڑول کرنے سے متعلق فوری نوعیت کے فیصلوں میں بڑی مدد ملی ہے۔
اس ٹکنالوجی کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی مخصوص وقت اور جگہ پر اتنے ہی افراد جمع ہوں جنتی وہاں گنجائش ہوتی ہے۔ان ٹکنالوجیز کی مدد سے مجمع سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورت حال کو کم سے کم پریشانی سے انتہائی تیزی سے نمٹا جا سکتا ہے۔
لالچ دے کرغیراخلاقی کام کرانے والوں کو گرفتار کرنے کا حکم
ریاض،15ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب میں پبلک پراسیکیوشن آفس کے سرکاری ترجمان نے مجاز استغاثہ کی جانب سے ریاض شہر میں شہریوں کو کسی دوسرے شخص کو لالچ دینے اور اسے غیر اخلاقی حرکتوں پر مجبور کرنے کے واقعے کے حوالے سے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا اعلان کیا۔گرفتاری کے بعد ملزمان سے تفتیش کے طریقہ کار کو انجام دینے سے یہ بات واضح ہو گئی کہ انہوں نے متاثرہ شخص کو سوشل میڈیا ایپلی کیشن کے ذریعے پہچانا۔ یہ کہ ملزمان نے متاثرہ کوشکار بنانے کے لیے طاقت اور تشدد کا سہارا لے کر اسے دھوکہ دیا۔
ترجمان نے شہریوں کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے طریقہ کار کو مکمل کرنے اور انہیں مجاز عدالت سے رجوع کرنے کے لیے اس سلسلے میں سخت ترین سزائیں دینے کا مطالبہ کیا گیا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں کو بڑا جرم سمجھا جاتا ہے جن کے لیے گرفتاری کی ضرورت ہوتی ہے۔انہیں سزائے موت تک بھاری سزائیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پبلک پراسیکیوشن مجرموں کے خلاف تیز رفتار ٹرائل اور فیصلے جاری کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پبلک پراسیکیوشن آفس تمام غیر قانونی رویے، ہر وہ چیز جس سے افراد کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا ہر وہ چیز جو معاشرے کے امن و سکون کو متاثر کرتی ہو پر توجہ دیتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں مواخات کی پینٹنگزعوامی توجہ کا مرکز بن گئی
ریاض،15ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسلامی تاریخ کے آغاز اور پیغمبر اسلامؐ کے دور میں ھجرت مدینہ کے موقعے پر مسلمان مہاجرین اور انصار کے درمیان جو تاریخی اور فقید المثال بھائی چارہ دیکھا گیا اس کی تفصیل کتابوں میں ملتی ہے، مگرسعودی عرب کی ایک خاتون آرٹسٹ نے مہاجرین اور انصاف کے اس تاریخی بھائی چارے’مواخات‘ کو آرٹ ورک میں پیش کرکے منفرد کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے کئی حصوں پر مشتمل پینٹنگز میں ’مواخات‘ کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
زائرین شاہ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر (اثرا) میں امیگریشن نمائش کا وزٹ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج کل جس چیز میں ان کی سب سے زیادہ دلچسپی ہے وہ چمکدار فن پارے اور حسی اثرات کے حامل پروجیکٹس ہیں جنہیں مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں نے پیش کیا ہے۔اس تناظر میں آرٹسٹ زہرا الغامدی نے بھائی چارہ کے عنوان سے ایک فن پارہ پیش کیا ہے جس میں پیغمبراسلام ? کی ہجرت سے لے کر مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارے کے دور کا اظہار کیا گیا ہے۔
تاکہ ایک سچی کہانی جس کا تصور کرنا مشکل ہو کو آرٹ کی زبان میں پیش کیا جا سکے۔زہرہ الغامدی نے اپنے ڈیزائن کی مضبوطی کے لیے پرانی کتابیں پڑھنے کا سہارا لیا، جس میں 5 مہینے لگے، روزانہ 6 گھنٹے کام کرکے یہ پینٹنگ تیار کی۔اپنے فنی کام کے ذریعے الغامدی جو جدہ یونیورسٹی میں ایک ماہر تعلیم ہیں بصری فنون اور ڈیزائن میں مہارت رکھتی ہیں۔ انہوں نے 2,700 میٹر کپڑوں اور مقداروں پر مشتمل ڈیزائن کی گرہ بندی اور بنائی کے ذریعے سماجی پیغام دینے کا بیڑا اٹھایا۔
ان آرٹ کے فن پاروں میں اس وقت کے موسمی حالات، پانی اور کیچڑکے درمیان انصار اور مہاجرین کیدرمیان بھائی چارے، محبت اور ہم آہنگی کو منفرد انداز میں بیان کیا گیا ہے۔آرٹسٹ نے کہا کہ میرے تمام فن پارے جو 2014 میں منظر عام پر آئے فن تعمیر، آلودگی، زمین اور دیگر کہانیوں کے گرد گھومتے ہیں جو ہماری روزمرہ کی زندگی کی حقیقت سے قریب تر ہیں، اس لیے میں بھائی چارے کے ڈیزائن کو اپنے کیرئیر میں ایک چیلنج اور ایک موڑ سمجھتی ہوں۔
نمائش کے اندر نمایاں ترین تاریخی نمائشوں میں الشیخ عثمان طحہٰ اور خطاط اسامہ القحطانی کے فن پارے شامل ہیں۔ انہوں نے مدینہ دستاویز لکھنے کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے مدینہ دستاویز لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا، یہ اسلام کی پہلی آئینی دستاویزہے جس میں متعدد سیاسی، مالی اور سماجی مسائل اور اصولوں کو منظم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کام انہیں تفویض کیا گیا تھا اور سنت نبوی ؐ کے شعبے میں مہارت رکھنے والے ماہرین تعلیم کے ایک گروپ کے ساتھ اس کا سائنسی جائزہ لیا گیا تھا۔ القحطانی کے مطابق اس طرح کے کاموں کے لیے وقت اور محنت درکار ہوتی ہے اور اس نے ان پر 10 دن تک روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ کام کیا۔



