انسٹاگرام پر دوستی کا خوفناک انجام، بیوہ خاتون کو نوکری کے بہانے پھنسایا، جبری شادی اور اجتماعی زیادتی کا الزام
انسٹاگرام دوستی بنی عذاب، نوکری کے جھانسے میں بیوہ خاتون کے ساتھ ہولناک ظلم
اناؤ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے ضلع اناؤ سے ایک انتہائی دل دہلا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں انسٹاگرام پر ہونے والی دوستی ایک غریب بیوہ خاتون کی زندگی کے لیے خوفناک عذاب بن گئی۔ متاثرہ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر اسے نوئیڈا لے جایا گیا، جبری شادی کرائی گئی، جسم فروشی پر مجبور کیا گیا اور کئی ماہ تک ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت کے سخت احکامات کے بعد پولیس نے پانچ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
متاثرہ خاتون کے مطابق سال 2025 میں اس کی انسٹاگرام پر کاس گنج ضلع کی رہائشی شیوکماری نامی خاتون سے دوستی ہوئی۔ بات چیت بڑھنے کے بعد شیوکماری نے اس کی مالی پریشانی اور بیوہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوئیڈا میں اچھی نوکری دلانے کا وعدہ کیا۔ متاثرہ اپنے چار سالہ بیٹے کے بہتر مستقبل کی امید میں 10 اکتوبر 2025 کو اناؤ کے گڈانکھیڑا بائی پاس پہنچی، جہاں شیوکماری کے بیٹے اتل اور اس کے دوست سچن بھاٹی نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھا کر نوئیڈا لے گئے۔
متاثرہ کا کہنا ہے کہ نوئیڈا پہنچنے کے بعد اسے ایک مکان میں قید کر دیا گیا اور گھر کے کام کاج کرائے جانے لگے۔ صرف چار دن بعد 14 اکتوبر کو شیوکماری، اس کے بیٹے اتل، بیٹی، بہنوئی اور سچن بھاٹی نے اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر عدالت میں اتل سے جبری شادی کرا دی۔
شکایت کے مطابق شادی کے بعد ملزمان نے اسے دوسرے مردوں کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ انکار کرنے پر اسے بری طرح مارا پیٹا جاتا اور مختلف طریقوں سے ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
متاثرہ نے بتایا کہ اس دوران وہ حاملہ ہوگئی اور ایک بچی کو جنم دیا، لیکن اس کے باوجود ملزمان کا ظلم کم نہیں ہوا۔ بچی کی پیدائش کے بعد اس کے کھانے میں نشہ آور ادویات ملائی جانے لگیں۔ بے ہوشی کی حالت میں باہر سے لوگوں کو بلا کر اس کے ساتھ بار بار اجتماعی زیادتی کی جاتی رہی، جبکہ مزاحمت کرنے پر اسے شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
آخرکار ایک دن ملزم کا موبائل فون ہاتھ لگنے پر متاثرہ نے خفیہ طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے کے بعد اس کا بھائی نوئیڈا پہنچا اور اسے وہاں سے نکال کر گھر لے آیا۔
متاثرہ نے بگا پور کوتوالی پولیس اور ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو تحریری شکایت دی، تاہم اس کا الزام ہے کہ پولیس نے طویل عرصے تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ پولیس کی مبینہ غفلت سے مایوس ہو کر اس نے انصاف کے لیے سول جج کی فاسٹ ٹریک کورٹ سے رجوع کیا۔
عدالت کے حکم پر بگا پور کوتوالی پولیس نے شیوکماری، اس کے بیٹے اتل، بیٹی، بہنوئی اور سچن بھاٹی کے خلاف جبری شادی، اجتماعی زیادتی، انسانی اسمگلنگ، تشدد اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اسٹیشن ہاؤس آفیسر اروند کمار کے مطابق عدالت کی ہدایت پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تمام ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔



