بین الاقوامی خبریں

جوہری معاہدہ بحال ہونے تک آئی اے ای اے کے کیمرے بند رہیں گے:ایران

تہران، 26 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ نے کہا ہے کہ کہ 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی تک ملک کی جوہری تنصیبات میں نصب اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے کیمرے بند رہیں گے۔ایران نے ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو آگاہ کیا کہ اس نے جون میں تہران مخالف قرارداد کی منظوری کے بعد اپنی جوہری تنصیبات میں نصب 27 کیمروں سمیت آئی اے ای اے کے آلات کو ہٹا دیا تھا۔یہ کیمرے ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان2015 میں طے شدہ معاہدے کے تحت نصب کیے گئے تھے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے کہا کہ ہم اس وقت تک آئی اے ای اے کے کیمرے آن نہیں کریں گے جب تک دوسرا فریق جوہری معاہدے میں واپس نہیں آجاتا۔دریں اثنا ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصرکنعانی نے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گراسی پر تہران کے جوہری پروگرام کے بارے میں غیر پیشہ ورانہ، غیر منصفانہ اور غیر تعمیری خیالات رکھنے کا الزام لگایا ہے۔انھوں نیایک بیان میں کہا کہ اگر امریکا خیرسگالی کا مظاہرہ کرے توجوہری معاہدے کی بحالی کے لیے جلد کوئی سمجھوتہ طے پاسکتا ہے۔

کنعانی نے سوموار کواپنی ہفتہ وار نیوزکانفرنس میں کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے پرعزم ہے اور اس وقت تک بات چیت جاری رکھے گا جب تک کوئی اچھا اورپائیدارمعاہدہ طے نہیں پا جاتا۔گراسی نے جمعہ کو ہسپانوی اخبارالپیس میں شائع شدہ ایک انٹرویو میں کہاتھا کہ ایران کا جوہری پروگرام آگے بڑھ رہا ہیاوراس کے ہاں جو کچھ ہو رہا ہے، آئی اے ای اے کی اس پر بہت محدود نظر ہے۔مغربی طاقتوں نے خبردارکیا ہے کہ ایران جوہری بم کی تیاری کی صلاحیت حاصل کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے جبکہ ایران ایسے دعووں کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ جوہری بم تیار نہیں کرنا چاہتا ہے اور اس کا جوہری پروگرام پْرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان 2015 میں طے شدہ مگر متروک معاہدے کی بحالی کے بارے میں بالواسطہ بات چیت مارچ سے تعطل کا شکار ہے۔یہ جوہری معاہدہ مارچ میں بحالی کے قریب لگ رہاتھا لیکن دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جزوی طور پرانتشار کا شکارہوگئی کہ آیا امریکا سپاہ پاسداران انقلاب کواپنی غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے ہٹا سکتا ہے یا نہیں۔بائیڈن انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس کا پاسداران انقلاب کوممنوعہ فہرست سے خارج کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ،یہ ایک ایسا قدم ہے جس کا عملی اثرمحدود ہوگا لیکن اس سے بہت سے امریکی قانون ساز ناراض ہوں گے۔


گوگل کے شریک بانی کی اہلیہ سے میرے معاشقے کی خبریں بکواس ہیں: ایلون مسک

نیویارک، 26 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا کمپنی کے مالک ایلون مسک نے گوگل کے شریک بانی سرگئے برن کی اہلیہ سے مبینہ تعلقات کی تردید کی ہے۔واضح رہے کہ اخبار وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس مبینہ تعلق کی ہی وجہ سے ایلون مسک اور گوگل کے شریک بانی کے درمیان دوستی ختم ہوئی۔اس خبر کا جواب دیتے ہوئے ایلون مسک نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ مکمل بکواس ہے۔ایلون مسک کا کہنا تھا کہ وہ اور سرگئے برن اب بھی دوست ہیں اور گذشتہ رات دونوں ایک پارٹی پر اکھٹے تھے۔وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں اس معاملے سے باخبر شخصیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ گذشتہ سال کچھ عرصے کے لیے ایلون مسک اور گوگل کے شریک بانی کی اہلیہ نکول شاناہان کے درمیان رومانوی تعلق رہا تھا۔بی بی سی کی جانب سے سرگئے برن کے ساتھ ساتھ نکول شاناہان اور گوگل سے بھی ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن ان کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا۔

اخبار کے مطابق اس تعلق کی وجہ سے سرگئے برن نے رواں سال کے آغاز میں طلاق کا کیس دائر کیا تھا جس کے بعد ٹیکنالوجی کی دنیا کے دو ارب پتی افراد کی دیرینہ دوستی ٹوٹ گئی تھی۔لیکن ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر پر کہا گیا کہ میں نکول سے گذشتہ تین سال میں صرف دو بار ہی ملا ہوں اور وہ بھی بہت سے لوگوں کی موجودگی میں۔ اس میں کوئی رومانوی چیز نہیں تھی۔وال سٹریٹ جرنل کی خبر کے مطابق یہ افیئر گذشتہ سال دسمبر میں اس وقت شروع ہوا جب سرگئے برن اور ان کی اہلیہ علاحدگی کے باوجود اکٹھے رہ رہے تھے۔

وال سڑیٹ جرنل نے نکول شاناہان کے قریبی فرد کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے۔ایک اور ٹویٹ میں ایلون مسک نے کہا کہ وال سٹریٹ جرنل نے میرے اور ٹیسلا کے خلاف اتنی واہیات خبریں چھاپی ہیں کہ اب مجھے ان کی تعداد بھی یاد نہیں۔وال سٹریٹ جرنل کے مطابق گوگل کے شریک بانی اور ان کی اہلیہ کے درمیان اس وقت طلاق سے جڑے مالی معاملات پر مذاکرات ہو رہے ہیں جس کی مالیت تقریبا ایک ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ نکول شاناہان کیلیفورنیا سے تعلق رکھتی ہیں اور پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔

ان کے لنکڈ اِن پروفائل کے مطابق وہ قانونی ٹیکنالوجی کمپنی کلیئر ایکسیس آئی پی اور بیا ایکو فاؤنڈیشن کی بانی ہیں۔بیا ایکو فاؤنڈیشن ایک خیراتی ادارہ ہے جو ’زمین پر ماحولیات کے تحفظ اور قانونی نظام میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ برابری کا پرچار کرتی ہے۔یاد رہے کہ ایلون مسک، جو ٹیسلا کے ساتھ ساتھ روکٹ کمپنی سپیس ایکس کے بھی مالک ہیں، اس وقت ٹوئٹر کے ساتھ ایک قانونی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں جس کی شروعات ان کی جانب سے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو 44 ارب ڈالر کے عوض خریدنے کے منصوبے سے ہوئی۔

رواں ماہ کے آغاز پر ٹوئٹر کی جانب سے ایلون مسک کے خلاف اس وقت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا تھا جب انھوں نے ٹوئٹر کی خریداری کے مجوزہ معاہدے سے دست برداری کا اعلان کیا تھا۔ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص ہیں جن کی دولت بلوم برگ کی ارب پتی افراد کی فہرست کے مطابق 240 ارب ڈالر تک ہے۔ اسی فہرست کے مطابق گوگل کے شریک بانی سرگئے برن تقریبا 95 ارب ڈالر کے مالک ہیں اور دنیا کے آٹھویں امیر ترین شخص ہیں۔


ٹک ٹاک پربرطانیہ کے جعلی پاسپورٹس کی تشہیر،آن لائن 4210 ڈالرمیں فروخت

لندن، 26 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) جعل سازوں کے گروپ برطانیہ کے جعلی پاسپورٹس کی آن لائن آزادانہ تشہیر کررہے ہیں اور ایک پاسپورٹ قریباً 4210 ڈالر(3500پاؤنڈ) میں فروخت کررہے ہیں۔برطانوی اخبارڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق جعلی سازی اس اسکیم میں ملوّث گروہ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم اور بکنگھم پیلس کی تصاویرکا استعمال کررہے ہیں اور ٹک ٹاک اور ٹیلی گرام سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرسپر پرائس اور سپر فاسٹ سروس کو فروغ دے رہے ہیں۔انھیں انٹرنیٹ پر دیکھنے والوں کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں ہے۔ان اشتہارات میں جعل سازدعویٰ کرتے ہیں کہ ان جعلی پاسپورٹوں میں اعلیٰ معیارکی بائیومیٹرک چپس شامل ہیں جو برطانیہ کے سرحدی کنٹرول کے ساتھ ساتھ ہولوگرام، واٹرمارکس اور سکیورٹی فیچرزکو پاس کرنے کے لیے درکارہیں اور یہ ہوائی اڈوں پر نصب اسکینر کے ذریعے چیک کرنے پرصرف بالائے بنفشی روشنی کے نیچے نظر آتے ہیں۔مبینہ طورپراس اسکیم میں ملوث ایک گروہ نے برطانیہ میں مقیم ڈیلی میل کے خفیہ صحافی کو بتایا کہ ایک جعلی برطانوی پاسپورٹ 4210 ڈالرمیں فروخت کیا جا رہا ہے اور یورپی یونین کے پاسپورٹ کی قیمت 2406 ڈالر (2000پاؤنڈ) ہے۔

گینگ کے رکن نے صحافی کو بتایا کہ’’بہت سے لوگ اس طرف آئے تھے۔جو کچھ بھی آپ کوپسند ہے ہمارے پاس موجود ہے۔آپ فرانسیسی پسند کرتے ہیں؟ آپ کو برطانوی پسند ہے؟ یا آپ اطالوی پسند کرتے ہیں؟ہمارے پاس سب کچھ ہے۔

پاسپورٹس کا دھندا کرنے والے ان جعل سازوں میں سے ایک نے البانوی زبان میں ٹک ٹاک ویڈیوز کے ذریعے اشتہاردیتا ہے۔اس میں لکھا ہے ،انگلینڈجانے کے لیے موزوں یورپی پاسپورٹس میں دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی شخص رابطہ کرسکتا ہے۔البانوی جعل سازکے کزن نے ڈیلی میل کے نامہ نگارکو بتایا کہ اس نے تین ماہ قبل برمنگھم جانے کے لیے جعلی پاسپورٹ کا استعمال کیا تھا۔ایک ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں اس شخص نے کہا ،جیسا کہ میں کہتا ہوں، بھائی، میرے پاس ایک ہی پاسپورٹ تھا اوراب میں برطانیہ میں ہوں اور میرے پاس اطالوی پاسپورٹ تھا، بھائی، اور یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

میں یہاں آیا اور سب کچھ ٹھیک ہے بھائی۔اس کے بعد اس نے صحافی کو اپنا اصل پاسپورٹ دکھایا اور اشارہ کیا کہ چپ عام طور پر کہاں رکھی جائے گی اور وضاحت کی کہ چپ میں کسی کا نام، اونچائی، قومیت اور تاریخ پیدائش سمیت معلومات شامل ہیں۔وہ تمام معلومات جو عام طور پر ہوائی اڈوں پر سرحدی کنٹرول چیک کے دوران میں ظاہرہوتی ہیں۔اس کے بعد اس نے اپنے کزن البانوی جعل ساز کی ویڈیوز بھیجی ہیں۔ وہ این آئی سی کے نام سے متعارف کرایاجاتا ہے اور دکھاتا ہے کہ جعلی پاسپورٹ کیسے بنائے گئے تھے۔


معاشی بحران کے شکار سری لنکا میں صحت کا نظام بھی خطرے میں

کولمبو، 26 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سری لنکا کے سب سے بڑے ہسپتال کی پوری وارڈ ہی تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے اور تقریباً خالی ہے۔ یہاں موجود کچھ مریضوں کا علاج ہی نہیں کیا گیا اور وہ ابھی بھی درد میں مبتلا ہیں، جبکہ ڈاکٹر اپنی نوکریوں پر آنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق معاشی بحران نے ایک آزاد اور ہمہ گیر صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو شدید دھچکا پہنچایا ہے جو صرف چند ماہ قبل تک پڑوسی ممالک کے لیے حسد کا باعث تھا۔

شوگر اور افشار خون کے مرض میں مبتلا، جس کی وجہ سے ان کے جوڑوں میں سوچن ہو گئی ہے، تھریسا میری کو علاج کے لیے دارالحکومت کولمبو میں موجود نیشنل ہاسپٹل آف سری لنکا آنا پڑا۔اپنے سفر کے آخری مرحلے میں سواری نہ ملنے کی وجہ سے انہیں پانچ کلومیٹر تک لنگڑا کر آنا پڑا۔تھریسا میری کو چار دن بعد ہی ہسپتال سے ڈسچارچ کر دیا گیا جبکہ ان کے لیے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا، کیونکہ ڈسپنسری میں سبسڈی والی درد کش ادویات ختم ہو چکی تھیں۔70 سالہ خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈاکٹروں نے مجھے پرائیوٹ فارمیسی سے ادویات خریدنے کو کہا لیکن میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔

میرے گھٹنے ابھی تک سوجے ہوئے ہیں۔ میرے پاس کولمبو میں کوئی گھر نہیں ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کب تک چلنا ہے۔نیشنل ہسپتال عام طور پر ملک کے تمام افراد کی خصوصی علاج کی ضرورت کو پورا کرتا ہے، لیکن اب اس کا عملہ کم ہو گیا ہے اور اس کے 34 سو بستروں میں سے بہت سے غیر استعمال شدہ پڑے ہیں۔سرجری کے آلات اور جان بچانے والی ادویات کی سپلائی تقریباً ختم ہو چکی ہے جبکہ پیٹرول کی قلت کے باعث مریض اور ڈاکٹر دونوں علاج کے لیے سفر کرنے سے قاصر ہیں۔سرکاری میڈیکل آفیسرز ایسوسی ایشن کے رکن ڈاکٹر وسان رتناسنگھم کے مطابق ’سرجری کے لیے مقررہ وقت پر مریض رپورٹ نہیں کر رہے ہیں۔

کچھ طبی عملہ ڈبل شفٹوں میں کام کر رہا ہے کیونکہ دوسرے افراد ڈیوٹی پر نہیں آ رہے ہیں۔ ان کے پاس گاڑیاں ہیں لیکن پیٹرول نہیں ہے۔سری لنکا اپنی ضروریات کا بقیہ حصہ تیار کرنے کے لیے خام مال کے ساتھ ادویات اور طبی آلات کا 85 فیصد درآمد کرتا ہے۔لیکن ملک اب دیوالیہ ہو چکا ہے اور غیرملکی کرنسی کی کمی نے اسے معیشت کو رواں دواں رکھنے کے لیے درکار پیٹرول اور فارماسیوٹیکلز کو بیماروں کے علاج کے لیے درکار دواسازی حاصل کرنے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔

ادویات کی قلت کے حوالے سے ایک فارمیسی کے مالک کا کہنا تھا کہ عام درد کش ادویات، اینٹی بائیوٹکس اور بچوں کی ادویات کی سپلائی بہت کم ہے۔ گزشتہ تین مہینوں میں دوسری ادویات چار گنا مہنگی ہو چکی ہیں۔دوسری جانب وزارت صحت کے حکام نے سری لنکا کی صحت عامہ کی خدمات کی موجودہ حالت کے بارے میں تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا جس پر 90 فیصد آبادی کا انحصار ہے۔


امریکہ میں ڈیلاس ایئرپورٹ پر فائرنگ کرنے والی خاتون گرفتار

نیویارک، 26 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی حکام نے کہا ہے کہ پیر کو ایک 37 سالہ خاتون نے ڈیلاس لو فیلڈ ایئرپورٹ کے اندر بظاہر چھت پر کئی گولیاں چلائیں جس کے بعد ایک افسر نے اسے گولی مار کر زخمی کر دیا۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ڈیلاس کے پولیس چیف ایڈی گارسیا نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ خاتون کو 11 بجے کے قریب ہوائی اڈے کے پاس اتارا گیا اور وہ ٹکٹنگ کاؤنٹر کے قریب چل کر باتھ روم میں داخل ہوئیں۔

وہ ہڈڈ شرٹ یا کوئی اور لباس پہن کر باہر نکلیں، جو انہوں نے پہلے نہیں پہنا ہوا تھا، بندوق نکالی اور بظاہر چھت پر کئی گولیاں چلائیں۔انہوں نے کہا کہ قریب ہی موجود ایک افسر نے خاتون کے ’نچلے دھڑ‘ پر گولی مار کر انہیں زخمی کر دیا اور حراست میں لے لیا۔ انہیں علاج کے لیے مقامی اسپتال لے جایا گیا۔ایڈی گارسیا کا کہنا تھا ’اس واقعہ میں مشتبہ خاتون کے علاوہ کوئی اور شخص زخمی نہیں ہوا۔پولیس نے بعد میں خاتون کی شناخت 37 سالہ پورٹیا اوڈوفووا کے نام سے کی ہے، تاہم یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے فائرنگ کیوں کی تھی۔

ایڈی گارسیا نے مزید کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ہماری کمیونٹی کو معلوم ہو کہ یہ کوئی تشویش ناک صورتحال نہیں ہے۔واضح رہے کہ یہ ہوائی اڈے پر فائرنگ کا پہلا پرتشدد واقعہ نہیں تھا۔سنہ 2016 میں ایک پولیس افسر نے لو فیلڈ کے باہر ایک شخص کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔ پولیس نے کہا تھا کہ وہ اپنی سابق گرل فرینڈ کی گاڑی پر پتھر مارنے کے بعد افسر کی طرف بڑھا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button