
ایران:48 گھنٹے میں منشیات کے الزامات میں 11 بلوچوں کو سولی
ایران میں بلوچ اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد شیعہ مذہب سے تعلق نہیں رکھتے،
تہران ،3اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایران میں گذشتہ 48 گھنٹے کے دوران میں منشیات کے الزامات میں بلوچ اقلیت سے تعلق رکھنے والے 11 افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) نے کہا ہے کہ حکام نے نو ایرانی بلوچوں اور ہمسایہ ملک افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو بلوچ شہریوں کو اتوار اور منگل کو علی الصباح پھانسی دی ہے۔اس گروپ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ جولائی میں ایران بھر میں مجموعی طور پر61 افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے جبکہ ایران میں مختلف مقدمات میں ماخوذ افراد کو سزائے موت میں اضافہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اس سال ملک میں 423 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق 30 جولائی سے یکم اگست تک صوبہ سیستان،بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان کی مرکزی جیل میں منشیات کے الزامات میں آٹھ بلوچوں کو پھانسی دی گئی ہے۔
ایک اور بلوچ شخص کو اسی طرح کے الزامات پر 31 جولائی کو مشرقی صوبہ خراسان کے شہر بیرجند کی ایک جیل میں سُولی پر لٹکایا گیا۔اس میں مزید بتایا گیا ہے کہ 30 سالہ محمد ارباب اور 32 سالہ اسداللہ امینی کو 30 اور 31 جولائی کو سیستان بلوچستان کی زابل جیل میں خفیہ طور پر پھانسی دے دی گئی۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے الزام عاید کیا ہے کہ ایرانی حکام 22 سالہ مہسا امینی کی موت کے بعد گذشتہ سال ستمبر میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے تناظر میں پوری آبادی میں خوف وہراس پھیلانے کے لیے سزائے موت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ ایرانی نژاد کرد خاتون کو ایران کے خواتین کے لیے سخت ضابطہ لباس کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور تین روز بعد ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔
آئی ایچ آر کا کہنا ہے کہ ایران میں بلوچ اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد شیعہ مذہب سے تعلق نہیں رکھتے، بلکہ اہل سنت ہیں۔ وہ کل ملکی آبادی کا صرف دو سے چھ فیصد ہیں، لیکن 2022 میں پھانسی پانے والے تمام افراد میں ان کی تعداد ایک تہائی تھی۔ایران میں انسداد منشیات کے قانون میں ترامیم کے بعد 2018 میں منشیات سے متعلق الزامات پرپھانسی پانے والوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی تھی لیکن 2021 کے بعد سے اس جرم میں پھانسیوں کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔آئی ایچ آر کا کہنا ہے کہ 2022 میں منشیات سے متعلق الزامات پر پھانسی پانے والے 256 افراد میں سے قریباً نصف بلوچ برادری سے تعلق رکھتے تھے۔



