تہران،31دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایرانی جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے ویانا میں عالمی طاقتوں اور تہران کی بات چیت جاری ہے۔ اس دوران تہران نے سیٹ لائٹ کیریئر کے ذریعہ تین تحقیقاتی آلات خلا میں کامیابی کے ساتھ بھیجنے کا دعوی کیا ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعرات کے روز سیٹ لائٹ کیریئر کے ذریعہ تین تحقیقاتی آلات خلاء میں بھیجنے کی اطلاع دی۔
تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ راکٹ خلاء میں کب بھیجا گیا اور بھیجے گئے یہ آلات کس نوعیت کے تھے۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا راکٹ اپنے مقررہ مدار میں داخل ہو سکا یا نہیں۔امریکہ ماضی میں اس طرح کے تجربات کی نکتہ چینی کرتا رہا ہے۔ اس نے ایرانی جوہری معاہدے سے خود کو مئی 2018 ء میں یک طرفہ طور پر الگ کرنے کے بعد تہران کے خلاف کئی نئی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان سید احمد حسینی نے بتایا کہ سیمرغ نامی اس راکٹ کو کامیابی سے خلاء میں لانچ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس خلائی تحقیقاتی مشن میں پہلی مرتبہ 470 کلومیٹر کی بلندی اور 7350 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے تین آلات خلامیں بھیجے گئے۔
حسینی نے کہا کہ سیٹ لائٹ کی لانچنگ کے تمام مراحل کو درست طریقے سے انجام دیا گیا اور اس لانچ کے مطلوبہ اہداف حاصل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے تاہم تحقیقات کی نوعیت کی کوئی تفصیل نہیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید راکٹ خلاء میں بھیجے جائیں گے۔
ایرانی ٹیلی ویژن نے بتایا کہ سیمرغ کو امام خمینی خلائی مرکز سے روانہ کیا گیا۔ اس نے راکٹ لانچ کیے جانے کو ایرانی سائنس دانوں کی ایک اور کامیابی قرار دیا۔
ایران کی سرکاری میڈیا نے حال ہی میں ملک کے سویلین خلائی پروگرام کے تحت آنے والے دنوں میں خلاء میں بھیجے جانے والے سیٹ لائٹس کی ایک فہرست پیش کی تھی۔ایران کے پاسداران انقلاب فوج کا اپنا ایک متوازی خلائی پروگرام ہے اور اس نے گزشتہ برس ایک سیٹ لائٹ کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچایا تھا۔
خیال رہے کہ ایران کا مسلسل اصرار ہے کہ وہ کسی طرح کا جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے اور سیٹ لائٹ لانچ کرنے اور راکٹ کے تجربات میں کسی طرح کا فوجی عنصر شامل نہیں ہے۔



