بغداد ، 12اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ابتدائی نتائج کے مطابق، عراقی پارلیمانی انتخابات میں مذہبی رہنما مقتدا الصدر کی سیاسی جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔ غیرحتمی نتائج کے مطابق،329 نشستوں والے پارلیمان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے الصدر کی جماعت کو اب تک 70 نشستیں مل چکی ہیں۔
الصدر کی پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک 73 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے، جس کے بعد وہ حکومت سازی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ گزشتہ پارلیمان میں ان کی جماعت کو 54 سیٹیں حاصل تھیں۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے خبر دی ہے کہ ابتدائی نتائج کے مطابق،بظاہر سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے شیعہ اتحادنشستیں جیتنے کے اعتبار سے دوسری بڑی جماعت ہوگی۔ اس ضمن میں مزید تفصیل کا انتظار ہے۔عراق میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 41 فیصد رہی، جو کہ ماہرین کے مطابق، ملک کی قیادت اور پارلیمان میں عوامی اعتماد کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔خبرکے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے انتخابات میں صدام حسین کے دور کے بعد کسی بھی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی کم ترین شرح رہی۔بدعنوانی اور بدانتظامی کے خلاف اٹھ کھڑی ہونے والی نوجوانوں کی قیادت کے لیے رعایت کے طور پر انتخابات کو مقررہ وقت سے کئی ماہ پہلے منعقد کرایا گیا ہے۔
لیکن 2019 کے آخر میں اصلاحات اور تازہ الیکشن کے مطالبات کے ساتھ ہونے والے مظاہروں میں شریک نوجوانوں نے اس الیکشن کا بائیکاٹ کیا اور انتخابات سے لاتعلقی کا ماحول دیکھا گیا۔عراق کے آزاد اعلیٰ الیکٹورل کمیشن نے پیر کے روز کہا کہ اتوار کو ہونے والے انتخابات میں 41 فیصد لوگوں نے ووٹ کا حق استعمال کیا۔
مگر اس بار ووٹنگ کی شرح سال 2018 میں ریکارڈ کی گئی تاریخ کی کم ترین 44 فیصد سطح سے بھی گر گئی۔یاد رہے کہ 2019 کے آخر اور 2020 کے ا?غاز میں دسیوں ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی تھی جن کے خلاف حکام نے اسلحہ اور آنسو گیس کا استعمال کیا تھا۔ کچھ ہی ماہ کے دوران عراق میں ہونے والے ان مظاہروں میں چھ سے زائد لوگ ہلاک ہوئے، جبکہ ہزاروں لوگ زخمی بھی ہوئے تھے۔
اگرچہ حکام نے نئے انتخابات کا مطابلہ منظور کر لیا تھا، لیکن مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاون، جانی نقصان اور ٹارگٹڈ ہلاکتوں کے کئی واقعات نے بہت سے مظاہرین کو الیکشن کا بائیکاٹ کرنے پر مجبور کر دیا۔با اثرشیعہ مذہبی رہنما مقتدی الصدر جنہوں نے 2018 میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی تھی اس بار بھی متوقع طور پر پہلے سے زیادہ سیٹوں پر کامیاب رہیں گے۔
لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں کوئی بھی گروپ یا پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کر پائے گی۔ اور عین ممکن ہے کہ نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے ہونے والے مذاکرات کئی ہفتوں اور مہینوں تک جاری رہیں گے۔



