بین الاقوامی خبریں

کیا پوٹن پارکنسن کی بیماری کا شکار ہیں؟

لندن،28اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو جاری ہوئی جس میں وہ علیل دکھائی دے رہے ہیں۔ بعض حلقوں نے دعویٰ کی ہے کہ پوٹن کو پارکنسن کا مرض لاحق ہے۔ لیکن ماہرین اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔امریکی سینیٹر مارکو روبیو سے لے کر سیاسی ماہرین اور برطانوی ٹیبلوئیڈز تک دنیا بھر میں یہ خبر گرم ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن بیمار ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پوٹن کو یا تو تھائرائیڈ کا کینسر ہوگیا ہے یا پھر وہ پارکنسن (رعشہ) کے مرض کا شکار ہوگئے ہیں۔یہ قیاس آرائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب ویڈیو میں پوٹن کو ایک میز کو بہت زور سے پکڑے ہوئے دیکھا گیا۔ 12منٹ کا یہ ویڈیو پوٹن کی روس کے وزیر دفاع سیرگئی شوئیگو کے ساتھ میٹنگ کی ہے۔

اس ویڈیو میں پوٹن کا پاؤں لرزتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور وہ بہت ہی ڈھیلے ڈھالے انداز میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر سوجن بھی نظر آرہی تھی۔اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد برطانیہ کے کنزرویٹیو پارٹی کے سابق رکن پارلیمان لوئس مینشن نے ٹوئٹر پر لکھا کہ روسی صدر کو پارکنسن کی بیماری ہے۔ ان کے اس دعوے کو برطانیہ کے کئی ٹیبلوئیڈ نے شائع کیا۔ اس کے علاوہ سیاسی رہنماؤں اور ماہرین سیاسیات نے بھی پوٹن کے باڈی لینگویج کے حوالے سے اپنی اپنی رائے دی۔ تاہم کسی نے بھی ڈاکٹروں کی رائے نہیں لی۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صرف ویڈیو دیکھ کر اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

برطانیہ میں ڈیمنشیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں نیورولوجسٹ جان ہارڈی کہتے ہیں کہ اصلی نیورولوجسٹ اس حوالے سے شاید ہی کوئی تبصرہ کریں کیونکہ انہیں سکھایا جاتا ہے کہ جولوگ ان کے مریض نہیں ہیں، ان کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔‘جب ڈی ڈبلیو نے ڈاکٹر ہارڈی سے اصرار کیا کہ وہ اس حوالے سے کیا سوچتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ پارکنس کا امکان نظر نہیں آرہاہے۔ ڈاکٹر ہارڈی کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے پارکنسز کی علامت بھی نہیں ہے۔

وہ صحت مند نہیں لگ رہے تھے لیکن پارکنس نہیں ہے۔پارکنسنز یوکے کی چیف ایگزیکیوٹیو کارولین رسیل نے بھی ڈاکٹر ہارڈی کی بات کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت پیچیدہ مرض ہے۔ جس کی 40 علامتیں ہوسکتی ہیں۔ ان میں جسمانی اورذہنی ہر طرح کی بیماریاں شامل ہیں۔ اس لیے 12منٹ کے ویڈیو کو دیکھ کر اس بارے میں کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہے۔یوکرین جنگ کے بعد یہ قیاس آرائیاں اور بھی تیز ہوگئیں کیونکہ بعض مبصرین نے اندازہ لگایا کہ پوٹن شدید علیل ہیں اور اپنی وراثت کو مضبوط کرنے کے لیے جنگ کررہے ہیں۔ لیکن یہ محض قیاس ہے کیونکہ اس کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اگر کسی ملک نے یوکرین جنگ میں مداخلت کی تو راست جواب دیں گے پوتن

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک نے روس کے یوکرین میں جاری فوجی آپریشن میں مداخلت کی تو روس برق رفتاری سے اس کا فوجی جواب دے گا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یوتن نے بدھ کو روسی قانون سازوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی موجودہ واقعات میں مداخلت کرتا ہے اور ہمارے لیے تزویراتی نوعیت کے خطرات پیدا کرتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ روس کا جواب بجلی کی رفتار کی طرح تیز ہوگا۔

ولادیمیر پوتن نے مزید کہا کہ ایسی صورت میں روسی فوج جدید ترین ہتھیار استعمال کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ہمارے پاس سارے ایسے ہتھیار ہیں جو کسی اور کے پاس نہیں ہیں۔

ہم ان پر صرف فخر نہیں کریں گے بلکہ ضرورت پڑنے پر انہیں استمعال بھی کریں گے، اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ بات سب کو معلوم ہو۔ہم نے اس حوالے سے پہلے سے ہی تمام فیصلے کرلیے ہیں۔خیال رہے کہ صدر پوتن اکثر روس کے جدید ترین ہتھیاروں بمشول ہائپر سونک میزائل اور نئے سمارٹ بین البراعظمی میزائل کی باتیں کرتے رہتے تھے جن کا روس نے رواں ماہ کے شروع میں ٹیسٹ کیا تھا۔خیال رہے کہ منگل کو امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ ولادیمیر پوتن یوکرین کے معاملے پر سفارت کاری کے بارے میں ’سنجیدہ‘ نہیں ہیں۔

متعدد بین الاقوامی کوششوں کے باوجود روسی صدر نے یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کے حوالے سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی۔اینٹونی بلنکن نے سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کو بتایا تھا کہ ہم نے اب تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیکھا کہ صدر پوتن بامعنی مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں۔بلنکن نے کہا تھا کہ ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یوکرین کے پاس روسی جارحیت کو پسپا کرنے کی صلاحیت ہو اور اسے مذاکرات کی میز پر بہتر طریقے سے مضبوط کرنا ہے۔انٹونی بلنکن یوکرین کے معاملے پر ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ سینیٹر رینڈ پال امریکی مداخلت کے ناقد ہیں۔اعلیٰ امریکی سفارت کار کا کہنا تھا کہ 24 فروری کے حملے سے قبل روس کے ساتھ بات چیت میں یہ واضح ہوگیا تھا کہ یوکرین کی مغربی اتحاد میں شمولیت کے بارے میں پوتن کی شکایات ایک بہانہ تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button