نیویارک، 21اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکہ کی وفاقی عدالت نے شام اور عراق میں امریکی شہریوں اور ایڈ ورکرز کے اغوا اور اْن کے سر قلم کرنے میں ملوث داعش کے سیل دی بیٹلز کے ایک رکن کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ورجینیا میں وفاقی عدالت کے جج ٹی ایس ایلس نے شدت پسند تنظیم داعش کے 33 سالہ رکن الشافی الشیخ El Shafee Elsheikh کو جمعے کو سزا سنائی۔ عدالتی فیصلے پر مقتول امریکی شہریوں کے اہلِ خانہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ اس فیصلے سے اُنہیں کچھ انصاف ملا ہے۔چار ماہ قبل ایک جیوری نے سابق برطانوی شہری الشافی الشیخ کو اغوا اور قتل کے لیے سازش کرنے کا قصوروار قرار دیا تھا۔
چھ ہفتے تک جاری رہنے والے ٹرائل کے بعد اپریل میں جیوری نے قرار دیا تھا کہ الشافی الشیخ داعش کے بدنام زمانہ سیل دی بیٹلزکا حصہ تھے, جو برطانوی لہجے میں بات کرتے تھے۔ انہوں نے شام اور عراق میں امریکی یرغمالیوں کے سرقلم کیے تھے۔جج ایلس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ اقدام خوفناک، وحشیانہ ،سفاکانہ اور بلاشبہ مجرمانہ تھا۔سوڈان میں پیدا ہونے والے ال شیخ نے ابتدائی زندگی لندن میں گزاری، ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے چار امریکی شہریوں جیمز فولی، اسٹیون سوٹلوف، پیٹر کیسگ اور کیلا میولر کو یرغمال بنا کر انہیں قتل کیا۔
جیمز فولی اور اسٹیون سوٹلوف صحافی تھے جب کہ پیٹر کیسگ اور کیلا میولر امریکی ایڈ ورکرز تھے۔انہیں یرغمال بنانے کے بعد ان کے سرقلم کر دیے گئے تھے اور اس عمل کی ویڈیو بھی بنائی گئی تھی۔امریکی حکام نے کہا تھا کہ کیلا میولر کو شام میں قتل کیے جانے سے قبل انہیں اس وقت کے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی جانب سے کئی بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔جیمز فولی، اسٹیون سوٹلوف اور پیٹر کیسگ کے قتل کی تصدیق 2014 میں ہوئی تھی جبکہ کیلا میولر کی موت کی تصدیق 2015 میں ہوئی تھی۔
الشافی کو سزا سنائے جانے کے بعد رپورٹرز سے گفتگو میں جیمز فولی کی والدہ نے بتایا کہ اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ جس کسی نے بھی دنیا کے کسی بھی حصے میں امریکی شہری کو اغوا، تشدد یا قتل کیا، امریکی انصاف اسے ڈھونڈ نکالے گا۔ ہماری حکومت آپ کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی اور آپ کے جرائم کی سزا ملے گی۔



