بین الاقوامی خبریں

ایران پر اسرائیلی حملے، خارگ (خرق) جزیرہ دھماکوں سے لرز اٹھا، ریلوے پل نشانہ

البرز میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 18 افراد ہلاک

تہران /دبئی 07 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں خارگ جزیرہ پر زور دار دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے شہر کاشان میں ایک ریلوے پل کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق خارگ جزیرہ پر ہونے والے دھماکے مبینہ طور پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کا نتیجہ ہیں۔ اس سے قبل اسرائیلی دفاعی افواج نے فارسی زبان میں ایک ہنگامی انتباہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو ٹرینوں کے استعمال سے گریز کرنے کی ہدایت دی تھی۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ریلوے لائنوں یا ٹرینوں کے قریب موجودگی جان کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

انتباہ کے چند گھنٹوں بعد مشہد شہر کے مرکزی ریلوے اسٹیشن سے تمام ریل خدمات معطل کرنے کا اعلان کر دیا گیا، جس سے ملک بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ادھر ایران کی پاسداران انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے توانائی تنصیبات اور پلوں پر حملوں کی دھمکی پر عمل کیا تو پورے خطے میں تیل اور گیس کی فراہمی برسوں تک متاثر ہو سکتی ہے۔ بیان میں خلیجی ممالک کو بھی بالواسطہ طور پر خبردار کیا گیا ہے۔

ایرانی حکام نے نوجوانوں، طلبہ، اساتذہ اور فنکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بجلی گھروں کے گرد انسانی زنجیریں بنا کر قومی اثاثوں کا تحفظ کریں۔ ماضی میں بھی ایران میں ایسے اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شہری تنصیبات پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے مزید تشویش پیدا کر دی ہے، جس پر امریکی قانون سازوں نے ان کے خلاف آئینی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دعویٰ کیا ہے کہ 1 کروڑ 40 لاکھ افراد نے ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی وطن کے لیے قربانی دینے کو تیار ہیں۔

ایران کے صوبہ البرز میں ایک فضائی حملے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہو گئے، جبکہ تہران اور اس کے نواحی علاقوں میں بھی شدید بمباری کی اطلاعات ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق مختلف شہروں میں رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر سعودی عرب اور بحرین کو ملانے والا اہم شاہ فہد پل بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث کچھ وقت کے لیے بند رکھا گیا، جسے بعد میں دوبارہ کھول دیا گیا۔

  عالمی ادارہ صحت نے غزہ سے طبی انخلا کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، جبکہ ایران میں ایک جنرل نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو رات کے وقت چیک پوسٹوں پر تعینات کریں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ایک اعلیٰ مشیر نے ایران کی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں اس کے اقدامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم فوری طور پر کسی حل کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button