ریاض، یکم مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب کی جدہ گورنری میں سکیورٹی حکام نے ایک یمنی بھکاری کو مسجد کے سامنے سے گرفتار کیا ہے جس کے قبضے سے ایک لاکھ دس ہزار ریال کی رقم ضبط کی گئی۔ ملزم نے یہ رقم مبینہ طورپر بھیک مانگ کرجمع کی ہے۔سعودی پبلک سیکیورٹی نے جمعہ کوٹویٹر پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ یہ رقم اس کی بھیک مانگنے اور نمازیوں سے ہمدردی کے نتیجے میں حاصل کی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنرل سکیورٹی نے اعلان کیا تھا کہ مجاز سکیورٹی حکام ہراس شخص کو گرفتار کریں گے جو بھیک مانگنے میں ملوث ہوں گے اور انہیں مجاز حکام کے پاس بھیجیں گے۔ شہریوں اور رہائشیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ باقاعدہ اور سرکاری پلیٹ فارم سے اپنے صدقات خیرات جمع کرائیں تاکہ مملکت میں گداگری کی حوصلہ شکنی ہو۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں بھیک مانگنا، اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں ممنوع ہے۔ بھیک مانگنا، بھکاریوں کا انتظام کرنا ، دوسروں کو اس کی ترغیب دینا۔ ان سے معاہدے کرنا، یا ان کی کسی بھی طرح سے مدد کرنا قابل سزا جرم ہے۔اس جرم پر ایک سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ کی سزا مقرر ہے۔
سعودی عرب کی جدہ گورنری میں سیکیورٹی حکام نے ایک یمنی بھکاری کو مسجد کے سامنے سے گرفتار کیا ہے جس کے قبضے سے ایک لاکھ دس ہزار ریال کی رقم ضبط کی گئی۔ ملزم نے یہ رقم مبینہ طورپر بھیک مانگ کرجمع کی ہے۔
سعودی پبلک سکیورٹی نے جمعہ کو ٹویٹر پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ یہ رقم اس کی بھیک مانگنے اور نمازیوں سے ہمدردی کے نتیجے میں حاصل کی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنرل سیکیورٹی نے اعلان کیا تھا کہ مجاز سکیورٹی حکام ہراس شخص کو گرفتار کریں گے جو بھیک مانگنے میں ملوث ہوں گے اور انہیں مجاز حکام کے پاس بھیجیں گے۔ شہریوں اور رہائشیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ باقاعدہ اور سرکاری پلیٹ فارم سے اپنے صدقات خیرات جمع کرائیں تاکہ مملکت میں گداگری کی حوصلہ شکنی ہو۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں بھیک مانگنا، اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں ممنوع ہے۔بھیک مانگنا، بھکاریوں کا انتظام کرنا ، دوسروں کو اس کی ترغیب دینا۔ ان سے معاہدے کرنا، یا ان کی کسی بھی طرح سے مدد کرنا قابل سزا جرم ہے۔اس جرم پر ایک سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ کی سزا مقرر ہے۔



