بین ریاستی خبریںجرائم و حادثاتسرورق

آئی فون اور بائیک کی خاطر دادا کا قتل، 13 سالہ پوتی سمیت چار نابالغ گرفتار

قتل کے بعد ساتھیوں نے پوتی کو ویڈیو کال کی، دادا کی لاش دکھائی

الاپپوزا، 19 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیز):کیرالہ کے الاپپوزا ضلع میں 67 سالہ بزرگ کے قتل کا معاملہ اس وقت انتہائی سنگین رخ اختیار کر گیا جب پولیس نے مقتول کی 13 سالہ پوتی سمیت چار نابالغوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں شبہ ہے کہ سونے کے زیورات حاصل کرنے اور ان کی رقم سے آئی فون اور موٹر سائیکل خریدنے کے لیے قتل کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ پولیس نے معاملے میں جووینائل جسٹس ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کردی ہے۔

متوفی کی شناخت 67 سالہ شیوان کٹی کے طور پر ہوئی ہے، جو ہریپاد کے کروواٹا علاقے میں کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔ واقعے کے وقت وہ گھر میں اکیلے تھے۔ ہفتہ کے روز ان کی لاش گھر کے اندر ملی۔ پولیس کے مطابق، ان کے ہاتھ اور پیر بندھے ہوئے تھے جبکہ گلے میں کپڑا مضبوطی سے لپٹا ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر واقعہ ڈکیتی کے دوران قتل کا معلوم ہوا، تاہم پوسٹ مارٹم میں دم گھٹنے کو موت کی وجہ قرار دیے جانے کے بعد تفتیش مزید آگے بڑھی۔

پولیس کے مطابق، آٹھویں جماعت کی 13 سالہ طالبہ نے اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ، جو 12ویں جماعت کا طالب علم ہے، اور 16 اور 17 سال کے دو دیگر دوستوں کے ساتھ مبینہ طور پر قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ لڑکی کو معلوم تھا کہ اس کے دادا کے گھر میں سونے کے زیورات کہاں رکھے گئے ہیں۔ الزام ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کو گھر اور زیورات سے متعلق مکمل معلومات فراہم کیں، جس کے بعد چاروں نے مل کر واردات کا منصوبہ بنایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہفتہ کی رات چاروں نابالغ کولم سے ٹرین کے ذریعے الاپپوزا پہنچے اور گھر کے پچھلے دروازے سے اندر داخل ہوئے۔ گھر میں داخل ہونے کے بعد ان کا سامنا شیوان کٹی سے ہوا۔ الزام ہے کہ ملزمان نے بزرگ کے ہاتھ اور پیر باندھ دیے اور کپڑے سے گلا گھونٹ دیا۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ نے بھی موت کی وجہ دم گھٹنا قرار دی ہے۔

قتل کے بعد ملزمان مبینہ طور پر گھر سے تقریباً 4.5 تولے سونا لے گئے۔ پولیس کے مطابق، چوری کیے گئے زیورات میں سے کچھ کولم میں تقریباً 16 ہزار روپے میں فروخت کیے گئے تھے۔ پولیس نے فروخت کیے گئے زیورات برآمد کرلیے ہیں اور اب یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ باقی زیورات کہاں ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی رقم کا کیا کیا گیا۔

ابتدائی تفتیش میں پولیس کو یہ بھی شبہ ہوا کہ زیورات فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم سے مہنگی اشیا خریدنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، لڑکی کے لیے آئی فون اور اس کے مبینہ بوائے فرینڈ کے لیے موٹر سائیکل خریدنے کا ارادہ تھا۔ تاہم، اس مقصد سے متعلق تمام تفصیلات کی پولیس کی جانب سے مزید تصدیق کی جارہی ہے۔

واردات کے بعد پوتی کا اپنے دادا کے گھر پہنچنا بھی تفتیش میں اہم کڑی ثابت ہوا۔ پیر کی صبح لڑکی گھر پہنچی اور پڑوسیوں کو بتایا کہ اس کے دادا گھر میں بے ہوش ہیں۔ پڑوسیوں نے اندر جاکر دیکھا تو بزرگ مردہ حالت میں پڑے تھے، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔ ابتدا میں لڑکی کے اس طرز عمل سے کوئی واضح شبہ سامنے نہیں آیا، لیکن بعد میں پوچھ گچھ کے دوران اس کے بیانات میں تضادات پائے گئے۔

پولیس کے مطابق، 13 سالہ لڑکی سے تفتیش کے دوران اس نے کئی مرتبہ اپنا بیان تبدیل کیا۔ اس کے جوابات میں تضادات بڑھنے کے بعد تفتیش کاروں کا شبہ مضبوط ہوگیا اور مزید پوچھ گچھ کی گئی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اسی دوران قتل کی مبینہ سازش اور دیگر نابالغوں کے کردار سے متعلق اہم معلومات سامنے آئیں۔

تفتیش میں ایک اور چونکا دینے والا پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے مبینہ طور پر جرم کی ویڈیو ریکارڈ کی اور اسے آپس میں شیئر کیا۔ بتایا گیا ہے کہ قتل کے بعد تین نابالغ لڑکوں نے لڑکی سے ویڈیو کال بھی کی اور اسے بزرگ کی لاش دکھائی۔ تفتیش کار اب موبائل فون، کال ریکارڈ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ قتل سے پہلے اور بعد میں ملزمان کے درمیان رابطوں کی مکمل تفصیل سامنے آسکے۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر گھر میں مرچ پاؤڈر چھڑکا تھا۔ شبہ ہے کہ ایسا سونگھنے والے کتوں کو شواہد تک پہنچنے سے روکنے اور تفتیش کو گمراہ کرنے کے لیے کیا گیا۔ تفتیش کار اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ نابالغوں نے واردات کا یہ طریقہ کسی کرائم فلم یا ویب سیریز سے تو نہیں سیکھا تھا۔

پولیس نے چاروں نابالغوں کو حراست میں لے لیا ہے اور ان کے خلاف جووینائل جسٹس ایکٹ کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔ کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس 16 اور 17 سال کی عمر کے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کے دائرہ کار کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جس میں یہ سوال شامل ہے کہ آیا کسی مرکزی ملزم کو قانون کے تحت بالغ کے طور پر ٹرائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تفتیشی افسران قتل کی منصوبہ بندی، گھر میں داخل ہونے، سونے کے زیورات کی چوری، زیورات کی فروخت، موبائل فون رابطوں اور ویڈیو کال سمیت تمام پہلوؤں کی جانچ کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق، کیس میں سامنے آنے والے الزامات کی مزید تصدیق شواہد کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button