قومی خبریں

پٹنہ فائرنگ تنازعہ: خان سر سول کورٹ پہنچ گئے، خودسپردگی کے بعد ضمانت کی درخواست متوقع

خان سر کی خودسپردگی کے بعد ضمانت کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔

پٹنہ 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)پٹنہ کے مصلّہ پور ہاٹ علاقے میں واقع خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے معاملے میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ معروف معلم فیصل خان عرف خان سر نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے خودسپردگی کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپنے وکلاء کے ساتھ پٹنہ سول کورٹ پہنچ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خودسپردگی کے بعد ان کے وکلاء کی جانب سے ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جا سکتی ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، توڑ پھوڑ اور تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق پانچ سے چھ راؤنڈ فائرنگ کی گئی جبکہ کوچنگ سینٹر کے باہر لگے پوسٹرز اور بینرز بھی پھاڑ دیے گئے۔ حملہ آوروں نے مبینہ طور پر گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث وہ زخمی ہو گیا اور اسے اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔

واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں پہنچ کر تحقیقات شروع کر دیں۔ قریبی دکانداروں اور عینی شاہدین سے پوچھ گچھ کی گئی جبکہ نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ بھی کھنگالی جا رہی ہے۔ مصلّہ پور ہاٹ پٹنہ کا ایک اہم تعلیمی مرکز ہے جہاں متعدد کوچنگ ادارے اور طلبہ کی رہائش گاہیں موجود ہیں۔

واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خان سر نے کہا تھا کہ چند سماج دشمن عناصر کوچنگ سینٹر پہنچے اور دو دن کے اندر ادارے کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔ ان کے مطابق حملہ آوروں نے گارڈ کو بری طرح مارا پیٹا اور خون میں لت پت حالت میں چھوڑ دیا۔ خان سر نے دعویٰ کیا کہ بعض عناصر ان کے ادارے کی کم فیس اور بہتر نتائج سے ناخوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ کو کم خرچ میں معیاری تعلیم فراہم کرنا کچھ لوگوں کو پسند نہیں آ رہا۔

 اس معاملے میں خان سر کے خلاف اقدامِ قتل اور اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کی کارروائی کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہے تھے کہ ایف آئی آر درج ہونے کے 24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود خان سر کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ اسی دوران یہ بحث بھی جاری رہی کہ ایف آئی آر میں ان کا نام کس بنیاد پر شامل یا خارج کیا گیا۔

گیان بندو کوچنگ سے وابستہ استاد ورون ٹھاکر نے انتظامیہ پر سستی اور جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ روشن آنند کو فوری گرفتار کر لیا گیا جبکہ خان سر کے معاملے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انتظامیہ نے منصفانہ کارروائی نہ کی تو وہ دوبارہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق خان سر کے بعض محافظوں نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ فائرنگ کے دوران انہیں گولی چلانے کے لیے کہا گیا تھا اور باقی معاملہ سنبھالنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ پولیس انہی بیانات اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تفتیش کو آگے بڑھا رہی ہے۔ تاہم ان الزامات کی عدالتی سطح پر ابھی تصدیق ہونا باقی ہے۔

اب سب کی نظریں پٹنہ سول کورٹ پر مرکوز ہیں جہاں خان سر کی خودسپردگی اور ممکنہ ضمانت کی درخواست اس پورے معاملے کی آئندہ قانونی سمت کا تعین کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button