لیمبورگینی ڈرائیور کو انوکھی سزا: کرناٹک ہائی کورٹ نے سماجی خدمت کا حکم سنایا
قانون توڑنے والا بچوں کو کیا سکھائے گا؟ عدالت کا طنزیہ سوال
نئی دہلی 11 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) کرناٹک ہائی کورٹ نے تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گاڑی چلانے کے ایک معاملے میں منفرد فیصلہ سناتے ہوئے لیمبورگینی کے مالک کو سماجی خدمت انجام دینے کا حکم دیا ہے، جس نے اس کیس کو غیر معمولی بنا دیا ہے۔
عدالت نے گرین لیمبورگینی کے مالک چرنتھ بی آر کے خلاف درج فوجداری مقدمہ کو مخصوص شرط کے ساتھ خارج کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ جسٹس ایم ناگاپراسنا کی سربراہی میں بنچ نے واضح کیا کہ ملزم کو سماجی خدمت کے ذریعے اپنی غلطی کا ازالہ کرنا ہوگا۔
یہ معاملہ دسمبر 2025 کا ہے، جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ملزم کو اپنی لیمبورگینی خطرناک انداز میں چلاتے ہوئے دیکھا گیا۔ گاڑی میں غیر قانونی طور پر تبدیل شدہ لاؤڈ سائلنسر بھی نصب تھا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جرمانہ عائد کیا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ سائلنسر تبدیل نہیں کیا گیا، جس پر کینگیری پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔
عدالت میں سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل کو بلاوجہ مجرم بنایا جا رہا ہے۔ تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ ملزم اپنی لیمبورگینی میں آئے گا، سڑکوں پر جھاڑو دے گا اور پھر اسی گاڑی میں واپس جائے گا۔
جب سماجی خدمت کی نوعیت پر سوال اٹھا تو وکیل نے تجویز دی کہ ملزم اسکول کے بچوں کو ٹریفک قوانین سکھائے گا۔ اس پر عدالت نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جو خود قوانین کی خلاف ورزی کر چکا ہے وہ بچوں کو کیا سکھائے گا۔
سرکاری وکیل نے بھی اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سماجی خدمت کو جرم کی نوعیت سے جوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک ڈاکٹر کو توہین عدالت کے کیس میں سرکاری اسپتال میں مفت خدمات انجام دینے کی سزا دی گئی تھی۔
طویل بحث کے بعد عدالت نے ایف آئی آر کو خارج کرنے کا فیصلہ سنایا، تاہم واضح کیا کہ ملزم کو لازمی طور پر سماجی خدمت انجام دینا ہوگی۔ عدالت نے کہا کہ اس حوالے سے جلد تفصیلی حکم جاری کیا جائے گا جس میں سماجی خدمت کی نوعیت اور مدت کا مکمل خاکہ پیش کیا جائے گا۔



