قومی خبریں

سائنس دانوں کی اہم دریافت، خون سے پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کی قبل از وقت نشاندہی ممکن

لنگس کینسر کی بروقت شناخت کی امید، نیا خونی ٹیسٹ 5 سال پہلے خطرہ ظاہر کرنے کے قابل

نئی دہلی 06 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ایک اہم سائنسی تحقیق میں ماہرین نے خون میں ایسے اشاروں کی نشاندہی کی ہے جو پھیپھڑوں (لنگس) کے کینسر کی تشخیص سے پانچ سال سے زیادہ پہلے اس بیماری کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں پھیپھڑوں کے کینسر کی جلد شناخت اور بروقت نگرانی کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

تحقیقی جریدے سیل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں خون میں موجود 14 مخصوص پروٹینز پر مشتمل ایک نمونے کی شناخت کی گئی، جو اوسطاً 5.6 سال قبل پھیپھڑوں کے کینسر خطرے کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے ایسے افراد کی جلد نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے جنہیں مستقبل میں اس بیماری کا سامنا ہو سکتا ہے۔

بھارت میں پھیپھڑوں کا کینسر ایک سنگین صحت عامہ کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق 2015 میں اس بیماری کے تقریباً 63 ہزار 700 معاملات ریکارڈ کیے گئے تھے، جبکہ 2025 تک یہ تعداد 81 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں تقریباً 80 سے 85 فیصد مریضوں میں بیماری اس وقت تشخیص ہوتی ہے جب کینسر کافی بڑھ چکا ہوتا ہے۔

آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) نئی دہلی کے ریڈی ایشن آنکولوجسٹ ڈاکٹر ابھشیک شنکر نے کہا کہ اس ٹیسٹ کو براہ راست کینسر کی تشخیص کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ایک خطرے کا اندازہ لگانے والا آلہ ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹیسٹ رسولی کو نہیں پکڑتا بلکہ ان افراد کی نشاندہی کرتا ہے جن میں مستقبل میں پھیپھڑوں کے کینسر پیدا ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران برطانیہ کے بائیو بینک پروگرام کے 48 ہزار سے زائد شرکاء کے خون کے نمونوں اور صحت سے متعلق معلومات کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ 14 پروٹینز، عمر، تمباکو نوشی کی تاریخ اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں جیسے عوامل کو ملا کر لنگس کینسر کے مستقبل کے خطرے کا اندازہ موجودہ طریقوں کے مقابلے میں زیادہ درست انداز میں لگایا جا سکتا ہے۔

بعد ازاں اس تحقیق کی تصدیق آٹھ بین الاقوامی مطالعات میں بھی کی گئی جن میں دو ہزار سے زائد لنگس کینسر کے مریض شامل تھے۔ ماہرین نے یہ بھی پایا کہ یہ پروٹینز صرف تمباکو نوشی کرنے والوں میں ہی نہیں بلکہ فضائی آلودگی کے باریک ذرات سے متاثر افراد میں بھی زیادہ پائے گئے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ فضائی آلودگی، سرطان پیدا کرنے والی جینیاتی تبدیلیاں اور جسم کے مدافعتی نظام سے وابستہ سوزش کے عوامل مل کر ایسے حیاتیاتی راستوں کو متحرک کر سکتے ہیں جو رسولیوں کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طریقۂ کار کو روزمرہ طبی استعمال میں لانے سے پہلے مزید تحقیقات اور مختلف آبادیوں میں اس کی جانچ ضروری ہے۔ تاہم امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ایسے خون پر مبنی خطرے کے تجزیاتی ٹیسٹ لنگس کینسر کی جلد شناخت اور مؤثر روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button