تلنگانہ کی خبریںجرائم و حادثات

میدک میں نومولود بچی فروخت کرنے کا انکشاف، مردہ قرار دے کر ماں سے چھین لیا گیا

ماں کو بتایا گیا کہ بچی مر چکی ہے، مگر حقیقت کچھ اور ہی نکلی۔

میدک 06 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تلنگانہ کے میدک ضلع میں انسانیت کو شرمسار کرنے والا ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نومولود بچی کو مردہ قرار دے کر خفیہ طور پر فروخت کر دیا گیا۔ پولیس کی تحقیقات میں حیران کن حقائق منظر عام پر آئے ہیں۔ اس معاملے میں نرس سمیت چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ متعلقہ اسپتال کو سیل کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاپن پیٹ منڈل کے لکشمی نگر تانڈہ کی رہنے والی نصرہ فاطمہ سکندرآباد کے مولا علی علاقے میں مقیم ہیں۔ وہ سات ماہ کی حاملہ تھیں اور گزشتہ ماہ اپنے میکے میدک آئی ہوئی تھیں۔ اسی دوران بندروں کے حملے میں گرنے سے انہیں شدید خون بہنے لگا۔ ان کی سہیلی پروین بیگم انہیں فوری طور پر شہر کے لائف کیئر اسپتال لے گئی۔

اگلے دن ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے ایک بچی کی پیدائش کرائی۔ الزام ہے کہ اسپتال میں کام کرنے والی نرس اختری بیگم نے نصرہ فاطمہ کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا کہ بچی پیدائش کے فوراً بعد فوت ہو گئی ہے۔ اس کے بعد خاتون کو گھر بھیج دیا گیا۔

چند دن بعد ایک نامعلوم شخص نے نصرہ فاطمہ کو بتایا کہ ان کی بچی زندہ ہے۔ یہ سن کر خاتون اور ان کے شوہر اسلم خان نے اسپتال انتظامیہ سے جواب طلب کیا اور 3 مئی کو میدک ٹاؤن پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی۔

پولیس تحقیقات میں معلوم ہوا کہ نرس اختری بیگم نے نومولود بچی کو میدک کی رہنے والی نوشین النساء کے حوالے کیا تھا۔ بعد ازاں اس بچی کو سدی پیٹ کے محمد اقبال الدین اور سعدیہ سلطانہ نامی جوڑے کو ایک لاکھ پچاس ہزار روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ اس رقم میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے نرس نے رکھ لیے جبکہ دس ہزار روپے درمیانی خاتون کو دیے گئے۔

پولیس نے سدی پیٹ سے بچی کو بازیاب کر کے میدک کے سکھی مرکز منتقل کر دیا۔ اس معاملے میں نرس، درمیانی خاتون اور بچی خریدنے والے جوڑے کو گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے جبکہ اسپتال کا مالک فرار بتایا جا رہا ہے۔

ضلع کلکٹر پرتیمہ سنگھ نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ کلکٹر کی ہدایت پر ضلع طبی افسر شری رام نے لائف کیئر اسپتال کو سیل کر دیا۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں نرسیں ملوث ہیں اور انتظامیہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد تمام ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button