بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

ممبئی: سر میں دھنسے ہتھیار کے ساتھ نوجوان خود چل کر اسپتال پہنچ گیا

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں میں سنسنی

ممبئی 12 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ممبئی کے مانخورد علاقے میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا جہاں ایک نوجوان کے سر میں تیز دھار ہتھیار دھنس جانے کے باوجود وہ ہوش میں رہا اور خود چل کر اسپتال پہنچ گیا۔ اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں میں سنسنی پھیل گئی۔

اطلاعات کے مطابق یکم مئی کی رات تقریباً پونے بارہ بجے پی ایم جی پی کالونی میں عرفان چکن شاپ کے قریب 27 سالہ روہت ناگناتھ پوار پر چند افراد نے حملہ کر دیا۔ حملے کے دوران ایک تیز دھار ہتھیار اس کے سر کے بائیں حصے میں دھنس گیا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود روہت نے ہمت نہیں ہاری اور خود چلتے ہوئے سیون کے سرکاری اسپتال پہنچ گیا۔

اسپتال کے احاطے میں روہت کو موبائل فون استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ اس کے سر میں ہتھیار پھنسا ہوا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اسپتال عملے نے فوری علاج شروع نہیں کیا۔

بعد ازاں روہت کو لوکمانیہ تلک میونسپل جنرل اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے پیچیدہ جراحی عمل انجام دے کر اس کے سر سے ہتھیار نکالا۔ ڈاکٹروں کے مطابق روہت کی حالت اب مستحکم ہے تاہم اسے طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے جانچ شروع کر دی ہے۔ اس معاملے میں تین کم عمر لڑکوں کو 2 مئی کو حراست میں لیا گیا۔ جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ روہت کا پہلے گوتم نامی نوجوان کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا اور اسی تنازعے کے سبب حملہ کیا گیا۔

پولیس کے مطابق حملے کے دوران ایک لڑکے نے روہت پر تیز دھار ہتھیار سے وار کیا جبکہ دیگر دو نے اسے لاتوں اور گھونسوں سے مارا۔ بعد میں روہت کے والد ناگناتھ پوار اسے پہلے گوونڈی کے شتابدی اسپتال اور پھر سیون اسپتال لے گئے۔

سیون اسپتال کے نیورو سرجری شعبے کے ڈین ڈاکٹر بٹک دیورا نے بتایا کہ ہتھیار جس مقام سے اندر داخل ہوا وہی روہت کے زندہ بچنے کی بڑی وجہ بنا۔ ان کے مطابق ہتھیار جلد، پٹھوں، کھوپڑی اور دماغی حفاظتی تہوں سے گزرا لیکن دماغ کے اہم حصے محفوظ رہے۔ اسی سبب روہت پوری طرح ہوش میں رہا اور واضح انداز میں بات کرتا رہا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button