بین ریاستی خبریں

مسلم خاتون جیل افسر کو عمر قید کے ہندو قیدی سے محبت، رہائی کے بعد ہندو رسم و رواج سے شادی

مسلم خاتون جیل افسر اور سابق عمر قید قیدی کی ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی

چھترپور 07 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مدھیہ پردیش کے ستنا اور چھترپور اضلاع سے ایک انوکھی محبت کی کہانی سامنے آئی ہے، جہاں ستنا سینٹرل جیل کی مسلم معاون جیل سپرنٹنڈنٹ فیروزہ خاتون نے ایک سابق عمر قید قیدی دھرمیندر سنگھ عرف ابھلاش سے ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کرلی۔ اس بین المذاہب شادی نے پورے علاقے میں بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فیروزہ خاتون ستنا سینٹرل جیل میں وارنٹ انچارج کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اسی دوران ضلع چھندلا کے رہنے والے دھرمیندر سنگھ عرف ابھلاش، جو قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا، جیل کے اندر وارنٹ سے متعلق امور میں معاونت کرتا تھا۔ اسی دوران دونوں کے درمیان گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا، جو وقت کے ساتھ دوستی اور پھر محبت میں تبدیل ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق دھرمیندر سنگھ کو سال 2007 میں چندلا نگر پریشد کے اُس وقت کے نائب صدر کرشن دت دکشت کے قتل کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ قتل کے بعد نعش کو زمین میں دفن کردیا گیا تھا۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت کے بعد دھرمیندر کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ انہوں نے تقریباً چودہ برس ستنا سینٹرل جیل میں گزارے اور اچھے برتاؤ کی بنیاد پر تقریباً چار برس قبل رہائی حاصل کی تھی۔

رہائی کے بعد بھی فیروزہ خاتون اور دھرمیندر سنگھ کے درمیان رابطہ برقرار رہا۔ وقت کے ساتھ دونوں نے اپنی زندگی ایک ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم مذہبی اختلافات کی وجہ سے فیروزہ خاتون کے اہل خانہ اس شادی کے خلاف تھے اور انہوں نے تقریب میں شرکت نہیں کی۔

یہ شادی 5 مئی کو ضلع چھترپور کے لوکشن نگر میں منعقد ہوئی، جہاں مکمل ہندو رسم و رواج اور ویدک منتروں کے ساتھ شادی کی تمام رسومات ادا کی گئیں۔ تقریب میں دھرمیندر سنگھ کے اہل خانہ، مقامی افراد اور ہندو تنظیموں کے کارکنان شریک ہوئے۔

چونکہ دلہن کے خاندان کا کوئی فرد شادی میں موجود نہیں تھا، اس لیے وشوا ہندو پریشد کے ضلع نائب صدر راج بہادر مشرا اور ان کی اہلیہ نے فیروزہ خاتون کا کنیا دان کیا۔ شادی کی تقریب میں بجرنگ دل کے کئی کارکنان بھی موجود رہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button