ممبئی 12 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مہاراشٹر کے کسان اس وقت شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ بے موسم بارش اور ژالہ باری نے جہاں کھڑی فصلوں کو تباہ کر دیا، وہیں ریاست کی مشہور “لال سونا” کہی جانے والی پیاز کی قیمت کئی منڈیوں میں 50 پیسے سے ایک روپیہ فی کلو تک گر گئی ہے، جس کے بعد کسانوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔
دھاراشیو ضلع کے تنتاراج گاؤں کے کسان بھگوان سابلے نے مبینہ طور پر اپنی پیاز کی فصل کو آگ لگا دی کیونکہ انہیں مناسب قیمت نہیں مل رہی تھی۔ انہوں نے تقریباً چار ایکڑ زمین پر پیاز کی کاشت کی تھی اور بتایا کہ فصل پر 3 سے 4 لاکھ روپے خرچ ہوئے، لیکن منڈی میں قیمت ایک روپیہ فی کلو تک گرنے سے فروخت ممکن نہیں رہی۔
اسی طرح مہاراشٹر کے چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع سے کسانوں کی بدحالی کی ایک چونکا دینے والی تصویر سامنے آئی ہے، جہاں ایک کسان کو 1,262 کلو پیاز فروخت کرنے کے بعد بھی منافع حاصل نہیں ہوا بلکہ اسے اپنی جیب سے ایک روپیہ ادا کرنا پڑا۔ اس واقعے نے ریاست میں گرتی ہوئی زرعی منڈی کی قیمتوں اور کسانوں کی خراب معاشی حالت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ معاملہ پیتھن تعلقہ کے وروڈی گاؤں کے کسان پرکاش گالدھر سے متعلق ہے۔ انہوں نے تقریباً تین ماہ کی سخت محنت کے بعد پیاز کی فصل تیار کی تھی۔ کسان کو امید تھی کہ فصل کی فروخت سے گھریلو اخراجات پورے ہوں گے، بچوں کی اسکول فیس ادا کی جا سکے گی اور کچھ قرض بھی کم ہو جائے گا، لیکن منڈی میں اسے شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
پرکاش گالدھر اپنی پیاز 25 بوریوں میں بھر کر زرعی منڈی پہنچے۔ پیاز کا مجموعی وزن 1,262 کلوگرام تھا، لیکن بازار میں قیمت صرف 100 روپے فی کوئنٹل مقرر ہوئی، یعنی ایک کلو پیاز کی قیمت محض ایک روپیہ رہی۔ اس حساب سے کسان کو پوری فصل فروخت کرنے پر صرف 1,262 روپے حاصل ہوئے۔
دوسری جانب منڈی تک پیاز پہنچانے اور فروخت کے مختلف اخراجات اس آمدنی سے بھی زیادہ نکلے۔ کسان سے پورٹریج کے 125 روپے، تولائی کے 38 روپے، بھرائی کے 25 روپے، صفائی کے 25 روپے، نقل و حمل کے 500 روپے اور 25 بوریوں کے 550 روپے وصول کیے گئے۔ اس طرح کل خرچ 1,263 روپے تک پہنچ گیا اور کسان کو آخرکار اپنی جیب سے ایک روپیہ اضافی ادا کرنا پڑا۔
مارچ اور اپریل کے دوران مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بے موسم بارش اور ژالہ باری سے تقریباً ایک لاکھ 59 ہزار ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی۔ ناسک، احمد نگر اور مراٹھواڑہ کے کئی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے جہاں پیاز، گیہوں، آم، کاجو، انگور اور انار کی فصلوں کو بھاری نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 44 ہزار ہیکٹر پر پھیلی پیاز کی کاشت متاثر ہوئی ہے۔ ریکارڈ پیداوار، برآمدات میں کمی، ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولتوں اور مانگ میں کمی کے باعث بازار میں قیمتیں بری طرح گر گئی ہیں۔
کسان تنظیم “سوابھیمانی شیتکاری سنگھٹنا” نے 15 مئی کو ممبئی میں بڑے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ احتجاجی مارچ گرگاؤں چوپاٹی سے شروع ہو کر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی سرکاری رہائش گاہ “ورشا” تک جائے گا۔ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا نے بھی اس احتجاج کی حمایت کی ہے۔
مہاراشٹر کے ناسک، احمد نگر، دھاراشیو، بیڑ، پونے اور چھترپتی سمبھاجی نگر جیسے اضلاع میں لاکھوں کسان پیاز کی کاشت پر انحصار کرتے ہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق بیج، کھاد، مزدوری، آبپاشی اور نقل و حمل کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جبکہ منڈی میں قیمتیں لاگت سے بھی نیچے چلی گئی ہیں۔ کئی بازاروں میں کسانوں کو صرف 2 سے 5 روپے فی کلو قیمت مل رہی ہے جبکہ بعض مقامات پر ایک روپیہ یا اس سے بھی کم دام پر فروخت کی اطلاعات ہیں۔
کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں آمدنی بہتر ہونے کی امیدیں ختم ہو گئی ہیں اور کسان ایک بار پھر قرض کے بوجھ تلے دبنے لگے ہیں۔ کسانوں نے پیاز کے لیے کم از کم امدادی قیمت جیسا نظام نافذ کرنے، سرکاری خرید مراکز قائم کرنے اور برآمدی پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسانوں کو مناسب قیمت مل سکے۔
کسانوں نے فصلی نقصان پر فی ہیکٹر 22 ہزار روپے معاوضے کے سرکاری اعلان کو بھی ناکافی قرار دیا ہے۔ تنظیموں کے مطابق کونکن خطے میں آم اور کاجو کی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جس سے کسانوں کو کروڑوں روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔