دمشق،24ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) لبنان کے وزیر ٹرانسپورٹ علی حمیہ کے مطابق چند روز قبل مہاجرین کی ایک کشتی جو لبنان سے یورپ کی طرف روانہ ہوئی تھی، شام کے قریب ڈوبنے سے اب تک 76 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ لبنان کے وزیر ٹرانسپورٹ علی حمیہ نے کہا کہ کشتی پر سوار دیگر مسافروں کی تلاش جاری ہے تاہم اب زندہ بچنے کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں۔
شامی حکام نے جمعرات کی سہ پہر طرطوس (شمال مغرب) کے ساحل سے سمندر میں لاشیں تلاش کرنا شروع کیں۔اب تک ڈوبنے والی کشتی سے 20 افراد کو بچا لیا گیا ہے اور انہیں علاج کے لیے شام کے اسپتال لے جایا گیا ہے۔ شامی حکام نے اشارہ کیا کہ زندہ بچ جانے والوں میں سے زیادہ تر کو آکسیجن فراہم کی گئی ہے جب کہ کچھ کو انتہائی نگہداشت میں منتقل کر دیا گیا تھا۔شامی ٹی وی کے مطابق کشتی میں کم از کم 150 افراد سوار تھے۔
حمیہ نے بتایا کہ کشتی میں تقریباً 45 بچے سوار تھے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا تاہم وہ تعداد کی تصدیق نہیں کرسکے۔انہوںنے مزید کہا کہ کشتی بہت چھوٹی تھی اور لکڑی سے بنی تھی۔ادھرشام میں ڈوبنے والی کشتی کے لبنانی مسافروں کے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور لوگ تعزیت کے لیے ان کے گھروں میں آ رہے ہیں۔
بعض خاندان اب تک نہ ملنے والے اپنے پیاروں کی واپسی یا لاشوں کے انتظار میں ہیں۔شام میں سمندری بندرگاہوں کے ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر جنرل سامر قبرصلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے کیڈرز اب المنطار کے علاقے اور (جزیرہ) ارواد اور طرطوس کے سمندروں میں ایک کشتی کو بچانے کے لیے اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آٹھ زندہ بچ جانے والوں کو بچا لیا گیا۔
انہیں طرطوس کے الباسل ہسپتال لے جایا گیا۔بیان میں زندہ بچ جانے والوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کئی دن پہلے لبنان سے منیہ (شمال میں) سے ہجرت کرنے کے ارادے سے کشتی روانہ ہوئی تھی جس میں کئی ملکوں توں کے مسافر سوار تھے۔زندہ بچ جانے والوں کی تلاش اب بھی جاری ہے جس میں ماہی گیر بھی شامل ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کشتی میں کتنے مسافر سوار تھے۔حالیہ برسوں میں لبنان سے غیر قانونی طور پر ہجرت کرنے کی کوشش دہرائی گئی ہے۔
لبنان میں بگڑتے ہوئے معاشی اور زندگی کے حالات کی روشنی میں سمندری راستے سے بھاگنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ ان کی منزل اکثر قبرص ہے، جو لبنان کے ساحل کے قریب واقع یورپی ملک ہے۔اس کی شروعات فلسطینی اور شامی پناہ گزینوں سے ہوئی جنہوں نے نئی شروعات کی تلاش میں یہ خطرناک سفر طے کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔



