بین ریاستی خبریںجرائم و حادثات

ممبئی میں چار افراد کی پراسرار موت: بریانی یا تربوز نہیں، زہر دینے کا شبہ

عبداللہ دوکاڈیا ایک مالی دھوکہ دہی کے مقدمے میں اہم گواہ تھے

ممبئی 02 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ممبئی کے علاقے پیدھونی میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار موت کے معاملے میں تحقیقات نے اہم اور سنسنی خیز موڑ لے لیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کو فوڈ پوائزننگ سے جوڑا جا رہا تھا، تاہم فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی رپورٹ نے اس امکان کو کافی حد تک مسترد کر دیا ہے۔

ایف ڈی اے کی ابتدائی جانچ کے مطابق واقعے میں استعمال ہونے والا تربوز مکمل طور پر محفوظ پایا گیا ہے اور اس میں کسی قسم کی کیمیکل ملاوٹ یا زہریلا مادہ موجود نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ہی گھر میں موجود دیگر کھانے پینے کی اشیاء کا بھی تفصیلی معائنہ کیا گیا، مگر کسی بھی چیز میں زہر یا ملاوٹ کے آثار نہیں ملے۔ اس انکشاف کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے اور سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ اگر کھانا محفوظ تھا تو پھر موت کی اصل وجہ کیا ہے؟

تحقیقات میں شامل حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجہ فرانزک رپورٹ اور بیکٹیریا ٹیسٹ کے بعد ہی سامنے آئے گا، جن کا فی الحال انتظار کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران ابتدائی فرانزک جانچ میں ایک چونکا دینے والا پہلو سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق متوفیان کے دماغ سمیت کئی اہم اعضاء سبز ہو چکے تھے، جسے ماہرین غیر معمولی اور تشویشناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عام فوڈ پوائزننگ کا کیس نہیں بلکہ کسی مہلک زہر کے اثرات ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹروں نے بھی اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کی طبیعت اچانک بگڑنا اور چند گھنٹوں کے اندر چاروں کی موت واقع ہو جانا ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق واقعے کے دن خاندان کے گھر مہمان آئے تھے، جن کے لیے باہر سے بریانی منگوائی گئی تھی۔ مہمانوں کے جانے کے بعد اہل خانہ نے تربوز کھایا، جس کے کچھ ہی دیر بعد سب کی طبیعت خراب ہونے لگی اور رات بھر میں حالت بگڑتی چلی گئی۔

اس کیس میں ایک مجرمانہ پہلو بھی تیزی سے ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ دوکاڈیا ایک مالی دھوکہ دہی کے مقدمے میں اہم گواہ تھے۔ اس مقدمے میں ایک خاتون نے ایک رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کے خلاف رقم واپس نہ کرنے پر شکایت درج کرائی تھی، جو اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے۔

پولیس اس پہلو کو بھی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے کہ کہیں اس سانحے کے پیچھے کسی منظم سازش یا بدلے کی کارروائی تو نہیں۔ تفتیشی ٹیم خاندان کے قریبی تعلقات، کاروباری معاملات اور حالیہ تنازعات کی مکمل چھان بین کر رہی ہے۔

اس واقعے نے مقامی علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور لوگ اس پراسرار موت کی حقیقت جاننے کے لیے بے چین ہیں۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ جاری ہیں اور جیسے ہی فرانزک رپورٹ سامنے آئے گی، حقیقت واضح ہو جائے گی۔

فی الحال یہ معاملہ ایک معمہ بنا ہوا ہے، جہاں ہر نیا انکشاف مزید سوالات کو جنم دے رہا ہے، جبکہ پولیس اور ماہرین اس پیچیدہ کیس کی گتھی سلجھانے میں مصروف ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button