
پونے میں درندگی: 4 سالہ بچی سے زیادتی کے بعد قتل، 65 سالہ ملزم گرفتار
وزیر اعلیٰ کا فاسٹ ٹریک ٹرائل کا اعلان
ممبئی 02 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مہاراشٹر کے شہر پونے میں ایک انتہائی ہولناک اور انسانیت سوز واقعہ پیش آیا، جہاں چار سالہ معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے اس سنگین جرم میں ملوث 65 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واردات یکم مئی کی شام پونے کے نصراپور علاقے میں پیش آئی۔ ملزم نے بچی کو کھانے کا لالچ دے کر ایک مویشی شیڈ میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور بعد ازاں اسے قتل کر دیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق بچی دوپہر کے وقت لاپتہ ہوگئی تھی۔ اہل خانہ نے تلاش شروع کی اور پولیس کو اطلاع دی۔ کچھ دیر بعد تلاش کے دوران بچی کی مسخ شدہ اور خون میں لت پت نعش برآمد ہوئی، جس سے علاقے میں شدید صدمہ اور غم و غصہ پھیل گیا۔
تحقیقات کے دوران علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک بزرگ شخص کو بچی کو اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ اسی بنیاد پر پولیس نے ملزم کی شناخت کی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔
واقعے کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگوں میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور ممبئی-بنگلور ہائی وے کو بلاک کر دیا۔ مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا۔
پونے دیہی پولیس کے افسران موقع پر پہنچے اور حالات کو قابو میں کیا۔ پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی کہ 15 دن کے اندر چارج شیٹ داخل کی جائے گی اور مقدمہ فاسٹ ٹریک عدالت میں چلایا جائے گا۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے کیس کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا۔ حکومت متاثرہ خاندان کو جلد انصاف دلانے کے لیے پرعزم ہے۔
سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے بھی واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا دی جانی چاہیے اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ کے مطابق ملزم کا ماضی بھی مجرمانہ رہا ہے اور اس کے خلاف 1998 اور 2015 میں بھی POCSO Act کے تحت مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ موجودہ کیس بھی اسی قانون کے تحت درج کر کے مزید تحقیقات جاری ہیں۔



