ترکی میں روپوش داؤد ابراہیم کا ساتھی سلیم ڈولا ایک ’غلطی‘ سے گرفتار
ایک کورئیر نے بے نقاب کیا داؤد ابراہیم کے ساتھی کا خفیہ ٹھکانہ
ممبئی 02 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے قریبی ساتھی اور بین الاقوامی منشیات اسمگلر محمد سلیم ڈولا کو بالآخر ترکی سے گرفتار کر کے بھارت لایا گیا ہے۔ کئی برسوں تک بھارتی ایجنسیوں کو چکمہ دینے والا یہ ملزم ایک معمولی سی غلطی کے باعث قانون کے شکنجے میں آ گیا۔
حکام کے مطابق سلیم ڈولا، جو ممبئی کے ڈونگری علاقے کا رہائشی ہے، انٹرپول کے ریڈ نوٹس کے تحت مطلوب تھا۔ وہ گزشتہ چند برسوں سے ترکی میں روپوش تھا اور بھارتی ایجنسیوں کے لیے اس کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ اس کی تلاش کو گھاس کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے برابر قرار دیا جا رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق ڈولا نے گرفتاری سے بچنے کے لیے استنبول میں مکمل طور پر زیر زمین زندگی اختیار کر لی تھی۔ وہ تقریباً ڈیڑھ سال تک نہ اپنے ٹھکانے سے باہر نکلا اور نہ ہی کسی سے براہ راست رابطہ کیا۔ اس کا مقصد صرف ایک تھا: ہر قیمت پر ایجنسیوں کی نظر سے دور رہنا۔
لیکن چند دن قبل اس نے ایک ایسی غلطی کر دی جس نے اس کی ساری منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا۔ اس نے اپنے خفیہ ٹھکانے پر ایک کورئیر منگوایا، جس سے اس کی لوکیشن کا سراغ مل گیا۔ بھارتی ایجنسیوں نے فوراً انٹرپول کے ساتھ معلومات شیئر کیں، جس کے بعد استنبول پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور اسے گرفتار کر لیا۔
چھاپے کے دوران سلیم ڈولا کے قبضے سے دو ہندوستانی پاسپورٹ اور ایک بلغاریہ کا پاسپورٹ برآمد ہوا، جس پر وہ ’حمزہ‘ کے نام سے ترکی میں رہ رہا تھا۔ حکام اب یہ جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ پاسپورٹ اصلی تھا یا جعلی۔
ترکی حکام نے اسے ڈی پورٹ کر کے بھارت کے حوالے کیا، جہاں اسے دہلی ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا۔ ممبئی کی عدالت نے اسے نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی تحویل میں 8 مئی تک بھیج دیا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق 59 سالہ سلیم ڈولا گزشتہ دو دہائیوں سے منشیات کی اسمگلنگ کے بڑے نیٹ ورک سے جڑا ہوا تھا، جو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ تک پھیلا ہوا تھا۔ اس کے خلاف مہاراشٹر اور گجرات میں ہیروئن، چرس، میفیڈرون، میتھامفیٹامین اور مینڈریکس جیسی خطرناک منشیات سے متعلق کئی مقدمات درج ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈولا بھارت میں منشیات کی بڑی سپلائی چین کا اہم حصہ تھا اور نیچے کی سطح پر کام کرنے والے نیٹ ورکس کو سامان فراہم کرتا تھا۔ وہ گجرات اے ٹی ایس اور ممبئی پولیس کو بھی مطلوب تھا۔
ذرائع کے مطابق اس کے بیٹے تحیل سلیم ڈولا کو بھی 2025 میں متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر کے بھارت لایا گیا تھا، جس سے اس نیٹ ورک کے کئی راز پہلے ہی بے نقاب ہو چکے تھے۔
این سی بی نے اس کارروائی کو ’آپریشن گلوبل ہنٹ‘ کا اہم حصہ قرار دیا ہے، جس میں بھارتی ایجنسیوں، انٹرپول اور ترکی حکام کے درمیان قریبی تعاون دیکھنے میں آیا۔اگرچہ ترکی کے ساتھ حوالگی کا باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں، پھر بھی سفارتی سطح پر ہم آہنگی کے ذریعے اسے بھارت لانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ تفتیشی ادارے اب اس کے نیٹ ورک اور دیگر ساتھیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔تفتیشی ادارے اب اس سے جڑے دیگر بین الاقوامی رابطوں اور نیٹ ورک کو توڑنے میں مصروف ہیں۔



