سرورققومی خبریں

مظفر نگر: گائے ذبح کیس میں تین افراد کو 10 سال قید، 8 لاکھ روپے جرمانے کی سزا

مظفر نگر کی فاسٹ ٹریک عدالت نے 2021 کے مقدمے میں تین ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 سال قید اور 8 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

مظفر نگر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر کی فاسٹ ٹریک عدالت نے 2021 کے گائے ذبح کیس میں تین افراد کو قصوروار قرار دیتے ہوئے 10 سال قیدِ با مشقت اور 8 لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بھارت میں گائے کو "گوماتا” کا درجہ حاصل ہے اور ہندو مذہب میں اسے نہایت مقدس سمجھا جاتا ہے۔

ایڈیشنل سیشن جج روی کمار دیواکر کی عدالت نے بدھینا کلاں گاؤں کے رہائشی منشاد، ابوزر اور آس محمد عرف آشو کو اتر پردیش پریوینشن آف کاؤ سلاٹر ایکٹ کی دفعات 3، 5 اور 8 کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ گائے کا مقام بھارتی ثقافت میں محض مذہبی عقیدے تک محدود نہیں بلکہ وہ ملک کے سماجی ڈھانچے، معیشت اور ماحول سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ گائے کا غیر قانونی ذبح ہندو سماج کے ایک بڑے طبقے کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے اور اس سے سماجی ہم آہنگی اور امنِ عامہ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ گائے کا تحفظ آئین میں درج ریاستی ذمہ داریوں میں شامل ہے، اس لیے اس نوعیت کے جرائم کو سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے۔

یہ مقدمہ 24 جنوری 2021 کو اس وقت درج کیا گیا تھا جب تیتاوی پولیس نے خفیہ اطلاع پر بدھینا کلاں گاؤں میں ایک مکان پر چھاپہ مارا۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 55 کلو گائے کا گوشت، گائے کی کھال، سر، کھر اور ذبح کرنے میں استعمال ہونے والا سامان برآمد کیا گیا۔

سرکاری وکیل کلدیپ کمار کے مطابق چھاپے کے وقت دو ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا، جبکہ تیسرا ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، جس نے بعد ازاں عدالت میں خود سپردگی اختیار کی۔

مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے تفتیشی افسر اور ویٹرنری افسر سمیت پانچ گواہان کے بیانات قلم بند کرائے۔ ویٹرنری رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ برآمد ہونے والا گوشت اور دیگر باقیات گائے کی تھیں۔

دفاع کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ برآمدگی فرضی تھی، پولیس نے کسی آزاد گواہ کو شامل نہیں کیا اور مقامی دشمنی کی بنا پر ملزمان کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا۔

تاہم عدالت نے دفاع کے دلائل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف اس بنیاد پر پولیس اہلکاروں کی گواہی کو ناقابلِ اعتبار نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سرکاری ملازم ہیں۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر سرکاری گواہوں کی شہادت قابلِ اعتماد، مربوط اور شواہد سے مطابقت رکھتی ہو تو آزاد گواہوں کی عدم موجودگی استغاثہ کے مقدمے کو کمزور نہیں بناتی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ غیر قانونی گائے ذبح ایک سنگین اور سماجی طور پر حساس جرم ہے، جس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ناگزیر ہے۔اس طرح کے جرائم مذہبی جذبات کو متاثر کرتے ہیں اور عوامی امن و امان پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button